گزشتہ ہفتے پوری قوم کو چند سوالات درپیش رہے۔ کچھ سوالات کا تعلق حالات سے تھا، کچھ کا خیالات سے اور کچھ کا واقعات سے۔ ان سات دنوں میں ہماری قومی فکر کا خلاصہ سامنے آ گیا۔ ہماری سوچ کے رخ کا تعین ہوا، ہمارے ماضی کی نشاندہی ہوئی، ہمارے حال کی وجہ واضح ہوئی اور مستقبل کا ایک خاکہ بھی ابھر کر سامنے آیا۔ کچھ سوچیں متصادم رہیں، کچھ جذبے ادھورے رہے، کچھ نعرے متروک ہو گئے اور کچھ باتیں ان سنی رہیں۔ یوں یہ ہفتہ منزل، مقصد، راستے اور راہی کی تقسیم میں گزرتا چلا گیا۔
سوالات یہ تھے کہ کیا ہمیں خوشیاں منانے کا حق ہے؟ کیا ہمیں دہشتگردوں سے خوف زدہ ہو کر خوشیاں ترک کر دینی چاہئیں؟ کیا ہمیں مسلسل الم کی کیفیت میں رہنا ہے؟ کیا ہم نے دنیا میں ممتاز ہونا ہے؟ کیا ہم نے احتجاج کرنا ہے؟ کیا ہم نے ہر چیز کو آگ لگانی ہے؟ اپنی حالتِ زار پر کس کو الزام دینا ہے؟ کس کی طرف داری کرنی ہے؟ کس کی تادیب ہونی ہے؟ کون سے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے؟ اور کس مسئلے سے آنکھ چرانی ہے؟
بات بسنت سے شروع ہوئی۔ پچیس برس کے بعد لاہوریوں کو خوش ہونے کا موقع ملا۔ بسنت کے حوالے سے خدشات دم توڑ گئے۔ مریم نواز کو داد دیے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ جس تندہی اور محبت کے ساتھ انہوں نے بسنت کی بزم سجائی، اس کی تحسین نہ کرنا بددیانتی ہو گی۔ ہر پہلو پر پہلے سے غور کیا گیا۔ دس لاکھ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ لگا دیے گئے۔ پتنگیں اور پنے کیو آر کوڈ سے مزین کر دیے گئے۔ پولیس فورس کو چوکس کر دیا گیا اور فائر بریگیڈ کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا۔
بسنت نے وہ رونق لگائی جس کا لوگوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا۔ ہر شخص موج میں تھا۔ مدت کے بعد بھنگڑوں والی موسیقی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ایک زمانے کے بعد ڈھول کی تھاپ پر لاہوریوں نے رقص کیا۔ کھابے والوں کی چاندی ہو گئی۔ برقی قمقمے نایاب ہو گئے۔ لاہور دلہن کی طرح سج گیا۔ دنیا بھر سے لوگ بسنت منانے لاہور آنے لگے۔ جماعتوں کے سیاسی اختلافات لاہور کی رونقوں میں دب گئے۔ جشن کا سماں تمام چینلوں پر چھا گیا۔ مدتوں سے مسرتوں کو ترسی قوم کو خوشیوں کے نکاس کا راستہ ملا۔ مریم نواز کی اس کاوش سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ہر دور میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو غم کی طنابیں توڑ کر خوشیوں کے دریچے کھولنا چاہتے ہیں، اثبات کو شعار بناتے ہیں اور نفرتیں مٹاتے ہیں۔
جس وقت لاہور میں جشن کا سماں تھا، اسلام آباد میں بیرونِ ملک سربراہان کی آمد جاری تھی۔ بنیان المرصوص کے بعد دنیا کے سربراہان کی پاکستان آمد اب حیرت کا باعث نہیں رہی۔ اب دنیا پاکستان کو مختلف زاویوں سے دیکھتی ہے۔ اب بھارت کے بجائے پاکستان کو خطے کا طاقتور ترین ملک سمجھا جا رہا ہے۔ اب ہماری پوزیشن مفتوح کی نہیں بلکہ فاتح کی ہو چکی ہے۔ اب دنیا کے ممالک پاکستان کا دورہ کرنا باعثِ شرف سمجھتے ہیں۔ اب ہمارے ساتھ دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں اور ہمارے جہازوں کے آرڈر مل رہے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا خوشیوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔
جس وقت پاکستان میں جشن کی کیفیت تھی اور دنیا کے دو اہم ممالک کے سربراہان پاکستان آ رہے تھے، اسی وقت اسلام آباد کے مضافات میں ترلائی کے مقام پر دہشتگردوں نے ہمیں پھر اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا، درجنوں لوگوں کے پرخچے اڑ گئے اور دو سو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔
ٹی وی اسکرینوں سے جشن کے مناظر ہٹا لیے گئے۔ گیت گاتے اور رقص کرتے لوگوں کی فوٹیج بند ہو گئی۔ رونقوں کو بیان کرتی ٹرانسمیشنز روک دی گئیں۔ ٹی وی چینلوں پر ماتم کی کیفیت چھا گئی۔ ایمبولینسوں کے سائرن گونجنے لگے۔ سربریدہ لاشوں کے مناظر دکھائے جانے لگے۔ زخمیوں کی تعداد پر گفتگو ہونے لگی۔ شہداء کے مرتبے پر تبصرے ہونے لگے۔ ماتم کرتی عورتوں اور بین کرتے مردوں کے مناظر اسکرینوں پر آ گئے۔ مذہبی رہنما چینلوں پر آ کر بتانے لگے کہ یہ دھماکے کرنے والے مسلمان نہیں۔ خودکش حملہ آور کا ہمیشہ کی طرح شناختی کارڈ مل گیا۔ تفتیش کے محدود دائرے پر بات ہونے لگی اور پولیس کی کم نفری زیرِ بحث آنے لگی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری خوشیوں کی تاک میں ہمیشہ دشمن رہتا ہے، اور ایسا دشمن جس کے ہاتھ میں امریکی اسلحہ، دل میں افغان دہشتگردوں کی محبت اور جیب میں بھارتی فنڈنگ ہے۔
سارے ملک میں جشن کا موسم ماتم میں بدل گیا۔ مریم نواز نے ایک ذمہ دار وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے بسنت کی مصروفیات منسوخ کر دیں۔ لبرٹی چوک میں ہونے والا تاریخی جلسہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔ سارے ملک کی فضا سوگوار ہو گئی۔ ادھر آٹھ فروری کو پی ٹی آئی کا ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن احتجاج تھا۔ غم کی اس کیفیت میں بھی کسی نے اس احتجاج کو منسوخ نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کے کسی ایک ٹویٹ سے بھی احتجاج ختم کرنے کی صدا بلند نہیں ہوئی۔ کسی نے اس سیاسی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی کامیابیوں کو اجتماعی سوچ پر قربان بھی کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ روز پی ٹی آئی کے احتجاج کا دن تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں تھی، بازار کھلے تھے اور ملک بھر میں احتجاج کی کوئی نمایاں کیفیت محسوس نہیں کی گئی۔ لاہوری پھر بسنت میں کھو گئے اور بسنت کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا۔ لوگ دوبارہ زندگی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ حادثے کی یاد ہمیشہ کی طرح دھندلانے لگی اور شہداء کے غم میں بھی کمی آنے لگی۔ محسن نقوی نے بتایا کہ دہشتگردوں کا کھرا معلوم کر لیا گیا ہے، گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں اور حفاظتی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی کوشش سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر دور میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اپنی ذات اور احتجاج کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سے چند واضح نتائج اخذ ہوتے ہیں۔
ایک یہ کہ جب بھی ہم خوشیاں مناتے ہیں، ہمارے دشمن ان خوشیوں کے تعاقب میں رہتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے جتھے ختم کیے جائیں تو وہ دوسرے علاقوں میں گھس کر بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
تیسرا یہ کہ اجتماعی مفاد کے بارے میں ہر جماعت نہیں سوچتی۔
چوتھا یہ کہ کٹھور اور تنگ نظر لوگ ایسے مواقع پر بھی اپنے اختلاف اور احتجاج کو ہوا دیتے ہیں۔
پانچواں یہ کہ دنیا جب ہماری عزت میں اضافہ کرتی ہے تو ہمارے اپنے لوگ ہی اس عزت کو نشانہ بناتے ہیں۔
چھٹا یہ کہ المیوں میں گھری اس قوم کو شدت سے خوشیوں کی آرزو ہے۔
اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اب اٹل فیصلہ کرنا ہے کہ دہشتگردی سے ڈرنا نہیں بلکہ اپنی قوت سے انہیں ڈرانا ہے، اور بزورِ بازو اس ملک سے بھگانا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













