ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا،اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں : محسن نقوی

منگل 10 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کھیل کو سیاست سے دور رکھ کر حکومت کی کوشش ہے کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے اور خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں،ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا اور اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے ٹیموں کی تعداد میں 2 کا اضافہ کردیا گیا ہے، ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 50 لاکھ جبکہ رنر اپ ٹیم کو 25 لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ کرکٹ کی ترقی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع پر آئی سی سی کے ساتھ چیزیں چل رہی ہیں، ہم کسی سے ڈرتے نہیں، محسن نقوی

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی ٹیم میں 60 فیصد کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں کرکٹ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسپورٹس بورڈ کے ساتھ قریبی اشتراک سے کام کیا جا رہا ہے، صوبے میں کرکٹ اکیڈمیز اور گراؤنڈز کے قیام و بہتری کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ریجنل ٹیلنٹ کو جتنا زیادہ پروموٹ کیا جائے گا وہ پاکستان کی کرکٹ کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہوگا، ہمارا مقصد یہ ہے کہ ٹیلنٹ ضائع نہ ہو بلکہ اسے مزید نکھار کر قومی سطح تک پہنچایا جائے، پشاور ریجن میں 2 ٹیمیں بنارہے ہیں۔

پی ایس ایل میچز پشاور میں ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے آج ہی کوئی نہ کوئی خوشخبری مل جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انڈر 19 ایشیا کپ کے ہیرو سمیر منہاس کو بڑی خوشخبری سنادی

آئی سی سی سے متعلق معاملات پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا اور اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا۔ بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور اب ان کی بات مانی گئی ہے، اسی لیے ہم انڈیا کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

بھارت کے ساتھ کرکٹ سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ مستقبل کے بارے میں صرف اللہ بہتر جانتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے اور خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایپیکس کمیٹی کا اجلاس ہو چکا ہے اور اس کے بعد فالو اپ میٹنگ بھی ہوئی ہے، ایک بات واضح ہے کہ انسداد دہشتگردی کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تعریف ہے، اسلام آباد میں ہونے والے واقعات میں بھی اداروں نے مؤثر کارروائی کی ہے اور آئندہ بھی مشترکہ کوششوں سے دہشتگردوں کو شکست دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اللہ نے پاکستان کی عزت رکھی، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی

ڈیجیٹل شناخت اور ای کے وائی سی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت ہر شہری کی تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناخت ہوگی، اس سے سرمایہ کاری، بینکاری اور دیگر شعبوں میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔

انہوں نے سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد دھماکے کی تحقیقات میں سی ٹی ڈی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: وزیراعظم کا سفارتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنے والے ممالک سے اظہار تشکر

آپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟