بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے زور دیا ہے کہ ملک میں نئی اور صحت مند سیاست کو فروغ دیا جائے اور ماضی کی روایتی سیاست کے تاریک ابواب کو مسترد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بی این پی کی بھاری اکثریت کے بعد طارق رحمان پر سب کی نظریں، کیا بنگلہ دیش میں نیا سیاسی باب شروع ہوگا؟

بنگلہ دیش میں 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس جمعے کی شب مرکزی دفتر بنگلہ دیش جماعت اسلامی میں منعقد ہوا جس کی صدارت امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کی۔

اجلاس میں 12 فروری کو منعقد ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج اور بعد از انتخاب صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران متعدد قابل اعتراض امور سامنے آئے جن میں مبینہ دھاندلی، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز تک رسائی میں رکاوٹیں اور دیگر بے ضابطگیاں شامل ہیں۔

انتخابی بے ضابطگیوں پر تحفظات

اتحاد کے رہنماؤں نے ملک کے مختلف حصوں میں کارکنان اور ووٹرز کے خلاف مبینہ تشدد، حملوں اور آتشزنی کے واقعات کی مذمت کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں بصورت دیگر سخت فیصلے کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوگئی

اجلاس میں بعض حلقوں میں نتائج کی فہرستوں میں مبینہ رد و بدل اور طریقۂ کار میں بے قاعدگیوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔

اتحاد نے اعلان کیا کہ جہاں ناانصافی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہاں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی خصوصاً ڈھاکہ 13 اور کھلنا 5 کے حلقوں کا ذکر کیا گیا۔

رہنماؤں نے عندیہ دیا کہ مقررہ مدت میں اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

اتحاد نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن، نظم و ضبط اور متحدہ بنگلہ دیش کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا اور جسے وہ آمرانہ طرز عمل قرار دیتا ہے اس کے خلاف ڈٹا رہے گا۔

اتحاد نے قبل از انتخابات وعدوں کی پاسداری، خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز اٹھانے اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ مبینہ بدانتظامی کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

الیکشن کمیشن سے مطالبات

اتحاد نے بنگلہ دیش الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ایسے امیدواروں کے نتائج معطل کیے جائیں جن پر قرض نادہندگی کے الزامات ہیں، کیونکہ عوامی نمائندگی آرڈر کے تحت یہ اجازت نہیں دی جا سکتی۔

علاوہ ازیں حالیہ ریفرنڈم کے فیصلے پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بی این پی کی انتخابی فتح کے بعد پاکستان کا بنگلہ دیش سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کا اعلان

اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما، اتحادی جماعتوں کے نمائندگان، نومنتخب اراکین پارلیمنٹ اور دیگر پارٹی عہدیداران شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد ڈاکٹر شفیق الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ٹی20 ورلڈ کپ، امریکا نے نیدرلینڈ کو93 رنز سے شکست دے دی

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ