آزاد کشمیر حکومت کے زیرِ اہتمام اوورسیز کشمیری کنونشن کا آغاز مظفرآباد میں ہو گیا، جس میں دنیا بھر سے مقیم کشمیریوں نے شرکت کی۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عالمی سطح پر نام کمانے والے کشمیری اس اہم کنونشن میں شریک ہیں۔ تقریب میں وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور، قائدِ حزبِ اختلاف، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، حریت رہنما اور آزاد کشمیر حکومت کے وزرا بھی موجود ہیں۔
پینل مباحثے اور پالیسی ڈائیلاگ
کنونشن کے دوران پینل گروپ مباحثوں اور پالیسی ڈائیلاگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت نے شرکاء کے لیے بہترین انتظامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر
کنونشن میں ریاست کی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے خصوصی اور علیحدہ عدالت کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔
اوورسیز مسائل کے حل کے لیے اقدامات
کنونشن کے تحت وزیرِ اعظم آزاد کشمیر ویب پورٹل کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد اوورسیز کشمیریوں کے مسائل اور شکایات کا فوری ازالہ کرنا ہے۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ون ونڈو آپریشن کے قیام کو بھی اقدامات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
آئی ٹی، پن بجلی، سیاحت اور معدنیات پر فوکس
کنونشن میں آئی ٹی، ہائیڈل (پن بجلی)، سیاحت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ پینل مباحثوں کے بعد سفارشات کی روشنی میں جامع پالیسی مرتب کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے اوورسیز کشمیر کانفرنس: 16 فروری کو آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان
آرٹ اور کلچر شوز بھی کنونشن کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے کشمیری ثقافت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
نشستوں کے معاملے پر 3 ارکان اسمبلی واپس
دوسری جانب کنونشن کے دوران نشستوں کی عدم دستیابی کے باعث حکومتی وزیر سردار یاسر سلطان، ایم ایل اے عبدالماجد خان اور عاصم شریف بٹ، کو بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی، جس پر تینوں ارکان اسمبلی تقریب میں شرکت کیے بغیر واپس چلے گئے۔
واضح رہے کہ آج 16 فروری 2026 بروز پیر کو آزاد کشمیر میں عام تعطیل ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق 16 فروری کو مظفرآباد میں تمام سرکاری، نیم سرکاری ادارے اور نجی تجارتی مراکز بند ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معزز مہمانوں کی آمد اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔














