وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہے اور یہ ممکن ہے کہ پارٹی کے کچھ اراکین کو یہ خوشگوار خبر پسند نہ آئے کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے اپوزیشن لیڈر تبدیل کیے، پھر وزرائے اعلیٰ، اور اب ان کے پاس صرف وکٹم کارڈ بچا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
انہوں نے واضح کیاکہ کسی مریض کو کہاں رکھا جائے، کون سی دوا دی جائے یا کس طرح علاج کیا جائے، اس کا فیصلہ صرف ڈاکٹرز کریں گے۔ نہ مریض، نہ وکیل، اور نہ ہی پارٹی یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نظر 40 سال کے بعد بھی غیر معمولی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند رکھے۔ ان کی آنکھ پہلے سے بہتر ہے اور وہ صحت مند ہیں۔
’اس لیے ممکن ہے کہ پارٹی کے بعض اراکین کو یہ رپورٹ پسند نہ آئے۔ اب اس معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور سینئر ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔‘
طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا میں موٹروے کی بندش پر بھی تنقید کی اور کہاکہ حکومت سے پوچھا جائے کہ اپنے ہی لوگوں کو کیوں تکلیف دی جا رہی ہے۔
انہوں نے نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہ احتجاج کے لیے سڑک پر نکلے تھے، لیکن پارٹی کے موجودہ رہنما اے سی کمروں میں بہترین سہولیات میں بیٹھ کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو کس شرط پر بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے؟ حکومتی شخصیت نے بتا دیا
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ اگر اس سے انقلاب آنا ہے تو ہم مزید پراٹھے بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔














