بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہہ کر بھیجا ہے کہ بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں۔
اسلام آباد میں اپنی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بشریٰ بی بی کی بیٹی اور بھابھی نے بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے میری آنکھ ٹھیک نہیں۔
عمران خان نے پیغام بھیجا ہے کہ میری آنکھ ٹھیک نہیں ہے۔میری بہنوں کو کہو کہ آواز اٹھائیں، میں اپنے معالجین ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل سے ملنا چاہتا ہوں، میرے بلڈ ٹیسٹ میرے ڈاکٹرز کو چیک کروائے جائیں۔
علیمہ خان@Aleema_KhanPK pic.twitter.com/lxVP7AiErH
— PTI (@PTIofficial) February 17, 2026
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، علاج کی ہر سہولت دی جا رہی ہے، محسن نقوی
علیمہ خان نے کہاکہ اگر حکومت کا خیال ہے کہ عمران خان کا علاج ٹھیک ہوا ہے تو ان کو خوف کس بات کا ہے، یہ ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔
انہوں نے کہاکہ محسن نقوی اگر عمران خان سے خوفزدہ نہیں تو انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جائے، جہاں نگرانی ڈاکٹر عاصم یوسف کریں گے۔ سارے پاکستانی عمران خان کے لیے آواز اٹھائیں۔
علی امین گنڈاپور کی علیمہ خان سے گفتگو سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی کیا کہتا ہے۔
عمران خان نے آخری ملاقات میں کہا تھا یہ مجھے مار دیں گے، عظمیٰ خان
اس موقع پر عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے کہاکہ مجھے ایک پی ٹی آئی رہنما کی کال آئی کہ ہم قاسم زمان کو عمران خان سے ملاقات کے لیے بھیجتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میں نے جواب دیا کہ ہمیں کسی پر اعتبار نہیں، ہم ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں جو ان کی صحت کا جائزہ لے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کے چیک اپ سے متعلق جو رپورٹ آئی وہ ایک مذاق ہے، جن ڈاکٹرز نے اس پر دستخط کیے ان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ڈاکٹرز نے ہمیں کہا کہ کیا یہ رپورٹ ڈاکٹرز نے لکھی ہے۔
عظمیٰ خان نے سوال اٹھایا کہ بتایا جائے ایک انجکشن سے کیسے آنکھ ٹھیک ہوگئی، کیا یہ جادو تھا۔
عظمیٰ خان نے انکشاف کیاکہ آخری ملاقات میں عمران خان نے کہاکہ یہ مجھے مار دیں گے، اور اب محسن نقوی جیسا انسان جو باتیں کررہا ہے مجھے یقین ہے کہ یہ مار دیں گے، لیکن ایسا ہونے کی صورت میں ہم ان کی نسلیں ختم کردیں گے۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ محسن نقوی ہمیں دھمکیاں دیتا ہے، اصل میں 26 نومبر کے بعد ان کے منہ کو خون لگا ہوا ہے۔
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں، نورین خان
اس موقع پر نورین خان نے کہاکہ ان کی ہمت کیسے ہوئی کہ فیملی کو اطلاع دیے بغیر عمران خان کو پمز لے کر گئے، خود تو یہ کبھی پمز کے پاس سے نہیں گزرے، زکام ہونے پر بھی علاج کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن قرار دیدیا، حکومت سے 4 اہم مطالبات
انہوں نے کہاکہ عمران خان وہ واحد پاکستانی ہے جو ملک کی پہچان ہے، ان کو تو کوئی پہچانتا ہی نہیں، ساری دنیا کے نامی گرامی لوگ عمران خان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ عمران خان کی زندگی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، لیکن کر کچھ نہیں سکیں گے۔ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں شفٹ نہ کیا گیا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔











