ورلڈکپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں ناکامی کے بعد وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں قیام کے دوران کھلاڑیوں سے کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کروائے گئے، خود کھانا پکانا پڑا اور بعض اوقات سڑکوں پر بھی رہنا پڑا۔
عماد بٹ کا کہنا تھا کہ صبح اٹھ کر اگر کھلاڑی پہلے کچن اور برتن صاف کرے گا تو میدان میں کیا کارکردگی دکھائے گا؟ جو مشکلات ہم نے برداشت کی ہیں وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ کھلاڑی 3 وقت کا کھانا 115 ڈالر میں خود مینیج کریں۔
پاکستان ہاکی ٹیم آسٹریلیا سے واپس لاہور پہنچی تو فیڈریشن کا کوئی عہدیدار ہاکی کھلاڑیوں کو ریسیو کرنے آتا یہ تو دور کی بات گاڑی تک نہیں بھیجی گئی کہ عزت سے گھر پہنچ جائیں
کھلاڑیوں نے ہم نیوز کے رپورٹر علی رضا رحمانی سے بات کی ۔ ایک کھلاڑی نے کہا میں دوسرے سے لفٹ لوں گا تو دوسرے… pic.twitter.com/HZjMdRvLUx— Umar Daraz Gondal (@umardarazgondal) February 17, 2026
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے متعدد وعدے خلافی کی اور جھوٹ بولا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ہاکی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور مطالبہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔
کپتان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو فوری طور پر غیر ملکی کوچ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں، تاہم کھلاڑیوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ باہر بات کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے۔
دیگر کھلاڑیوں نے بھی دعویٰ کیا کہ آسٹریلیا میں سڑکوں پر رہنے کی وجہ سے ٹیم کا مورال بری طرح متاثر ہوا۔
دوسری جانب پاکستان اسپورٹس بورڈ کی ڈی جی نورالصباح نے مؤقف اختیار کیا کہ آسٹریلیا میں ہوٹل کی بکنگ کرائی گئی تھی، تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اسے منسوخ کردیا، جس کی ذمہ داری فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کی مکمل انکوائری رپورٹ وزیرِاعظم شہباز شریف کو بھجوائی جائے گی، جبکہ وزیرِاعظم پہلے ہی بدانتظامی کا نوٹس لے چکے ہیں۔













