چند دن قبل ایک 70 سالہ تاجر، حاجی فضل، سے گفتگو ہوئی۔ فرمانے لگے:
’رمضان کے بعد عمرہ کریں گے، پھر حج پر جائیں گے۔‘
میں نے حیرت سے پوچھا:
’رمضان میں کیوں نہیں؟‘
جواب آیا:
’یہ رمضان کا مہینہ ہے، دکان بند نہیں کر سکتے۔ الحمدللہ اس مہینے میں بہت زیادہ منافع ہوتا ہے۔‘
یہ سن کر دل ٹھٹھک گیا۔ جس مہینے کو تقویٰ، ایثار اور نفس کشی کا مہینہ کہا جاتا ہے، وہی مہینہ منافع خوری کا سنہری موقع بن چکا ہے۔ عبادت کو مؤخر اور کاروبار کو مقدم رکھنا ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی ایک واضح جھلک ہے۔ یہی سوچ وہ بنیاد ہے جس پر رمضان میں مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کی پوری عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال محض افسوسناک نہیں بلکہ ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔
حاجی فضل کوئی ایک فرد نہیں، بلکہ ایک ذہنیت اور رویّے کی علامت ہیں۔ 70 برس کی عمر، زبان پر الحمدللہ، پیشانی پر عبادت کے آثار، اور دل میں نفع و نقصان کا باریک حساب۔
وہ کہتے ہیں کہ رمضان کے بعد عمرہ کریں گے، پھر حج ادا کریں گے؛ کیونکہ رمضان میں دکان بند نہیں کی جا سکتی۔ یہی وہ مہینہ ہے جب کاروبار عروج پر ہوتا ہے۔ یوں عبادت کو مؤخر اور کمائی کو مقدم بنا لیا جاتا ہے۔ جس مہینے میں نفس کو جھکنا تھا، وہیں نفع کو سر پر بٹھا لیا گیا۔ یہی سوچ رمضان کو رحمت کے بجائے مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کا موسم بنا دیتی ہے۔
رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ یہ صبر، برداشت، ایثار اور غریبوں کے احساس کا درس دیتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں رمضان کی آمد ایک اور روایت بھی ساتھ لے کر آتی ہے—بے قابو مہنگائی۔
ہر سال یہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ شعبان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی آٹا، چینی، گھی، بیسن، دالیں، سبزیاں، پھل اور کھجوروں کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رمضان نہیں بلکہ کسی معاشی بحران کا اعلان ہو گیا ہو۔
سوال یہ ہے کہ کیا رمضان میں فصلیں کم ہو جاتی ہیں؟ کیا فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں؟ یا پھر کچھ عناصر اس مقدس مہینے کو منافع خوری کے لیے استعمال کرتے ہیں؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود ہے؟ دنیا کے کئی غیر مسلم، خصوصاً عیسائی اکثریتی ممالک میں مذہبی تہواروں جیسے کرسمس اور نیو ایئر کے موقع پر قیمتیں کم کی جاتی ہیں۔ بازار ڈسکاؤنٹس، سیلز اور خصوصی آفرز سے بھر جاتے ہیں تاکہ عوام تہوار آسانی اور خوشی کے ساتھ منا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے، حتیٰ کہ مسلم ممالک کے لوگ بھی، انہی دنوں میں ان مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔
اس کے برعکس مسلم دنیا میں، بالخصوص رمضان اور عید جیسے مقدس مواقع پر، قیمتوں میں اضافہ ایک معمول بن چکا ہے۔ جو مہینہ ایثار، ہمدردی اور آسانی کی علامت ہونا چاہیے، وہی مہینہ عوام کے لیے معاشی دباؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ یہاں تہوار رعایت کا نہیں بلکہ منافع خوری کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ تضاد ایک گہرے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ دیہاڑی دار مزدور، سفید پوش طبقہ اور کم آمدنی والے خاندان اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے سحری اور افطار کا بندوبست ایک مستقل آزمائش بن جاتا ہے۔
ریاست ہر سال رمضان بازاروں اور سستے پیکجز کے اعلانات تو ضرور کرتی ہے، مگر یہ اقدامات اکثر حقیقی ریلیف دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ پرائس کنٹرول قوانین موجود ہیں، مگر عملدرآمد کمزور ہے۔ بڑے ذخیرہ اندوز اور منافع خور قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ چھوٹے دکانداروں پر کارروائی کر کے محض رسمی اعداد و شمار پورے کر دیے جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بحران صرف معاشی یا انتظامی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ رمضان ہمیں نفس پر قابو پانے، لالچ چھوڑنے اور دوسروں کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
لیکن جب عبادات کے ساتھ کاروباری دیانت داری شامل نہ ہو تو روحانی ترقی محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔ حاجی فضل جیسے کردار اسی تضاد کی پیداوار ہیں—ظاہری دینداری اور عملی بے حسی کا امتزاج۔
افسوس کہ ہم ہر سال یہی سوال اٹھاتے ہیں، یہی شکوے دہراتے ہیں، مگر سبق نہیں سیکھتے۔ رمضان آتا ہے، مہنگائی آتی ہے، عوام پریشان ہوتے ہیں، اور پھر سب کچھ اگلے سال کے لیے فراموش کر دیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بدلیں گے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مؤثر اور غیرجانبدار نگرانی کو یقینی بنائے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے، اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاجروں اور پورے معاشرے کو بھی اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
رمضان رحمت کا مہینہ ہے—اسے زحمت کا مہینہ نہ بنائیں۔
اگر ہم نے اس بار بھی سبق نہ سیکھا تو پھر شکوہ کسی اور سے نہیں، خود اپنے کردار سے ہوگا۔
اور پھر ہم شکوہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
’برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













