رہنما مسلم لیگ ن زاہد خان کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے پاس اختیارات نہیں ہیں،ان کو کوئی پوچھتا نہیں، پارٹی میں حکم علیمہ خان کا چلتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد خان نے بتایا کہ پارٹی نے محمود خان کو لیڈر آف اپوزیشن بنا دیا گیا ہے۔
مگر ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بھی کسی حد تک ان کے لیے ایک سبق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قائدِ حزبِ اختلاف کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش
لیگی رہنما زاہد خان کے مطابق اگر معاملہ محمود خان اچکزئی پر چھوڑ دیاجاتا تو شاید وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے کیونکہ وہ سیاسی آدمی ہیں، انہیں سب علم ہے۔
زاہد خان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ ایک کہتا ہے بائیکاٹ کرو، دوسرا کہتا ہے اسپتال چلے جاؤ، اس کا کسی نے پوچھا۔
’جب عمران خان کو اسپتال لے جایا جا رہا تھا اور ان سے کہا گیا کہ آپ لوگ آئیں تو وہ نہیں گئے، انہیں منع کیا گیا کیونکہ حکم علیمہ خان کا چلتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: کیا پی ٹی آئی واقعی عمران خان کی رہائی چاہتی ہے؟
زاہد خان کے مطابق علیمہ خان نے ہی پارٹی قیادت کو عمران خان کے علاج کے لیے اسپتال جانے سے منع کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنی کالیں محمود اچکزئی کر رہے ہیں، اس کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا کیونکہ اصل فیصلہ پارٹی میں علیمہ خان کے ہاتھ میں ہے۔
زاہد خان کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں، جب پارٹی میں اندرونی اختلافات اور قیادت کی حکمت عملی پر سوالات زور پکڑ رہے ہیں۔













