ہمارے ریکارڈ میں گل پلازا میں میزینائن فلور نہیں، ڈی جی ایس بی سی اے کا کمیشن کے سامنے انکشاف

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر جنوبی، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ، ڈی جی ایس بی سی اے، سی ای او واٹر کارپوریشن اور صدر گل پلازا ایسوسی ایشن تنویر پاستا کمیشن اجلاس میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں درجہ حرارت 1000 ڈگری سے زیادہ تھا، چیف فائر فائٹر کا گل پلازا کمیشن کے سامنے بیان

سی ای او واٹر کارپوریشن نے کمیشن کو بتایا کہ تمام ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی، قریبی ہائیڈرنٹ 14 کلومیٹر دور ہے۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ فائر اسٹیشنز کے پاس واٹر کارپوریشن کی لائن ہونی چاہیے۔ سی ای او واٹر کارپوریشن کا کہنا تھا کہ 15 ہائیڈرنٹس موجود ہیں جہاں سے فائر ٹینڈرز کو روز 6 گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے، فائر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں ایک ملین گیلن یومیہ کا ٹینک موجود ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ گل پلازا میں پہلے 2 گھنٹوں میں کتنا پانی استعمال ہوا ہوگا؟ سی ای او واٹر کارپوریشن نے جواب دیا کہ 20 ہزار گیلن پانی ایک گھنٹے میں استعمال ہوتا ہے، تو 40 ہزار گیلن استعمال ہوا ہوگا۔ جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ ایسے تو 24 گھنٹوں میں بھی فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

جسٹس آغا فیصل نے سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سے سوال کیا کہ گل پلازا کے اطراف روڈ نیٹ ورک آپ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم صرف پلاٹ کی لیز دیتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے پھر سوال کیا کہ کیا روڈ پر تجاوزات بھی آپ کا معاملہ نہیں؟ گل پلازا کا ٹائٹل کیا ہے؟ سینیئر ڈائریکٹر لینڈ نے عدالت کو بتایا کہ 1884 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی، اس وقت میونسپلٹی نے لیز دی تھی۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا کسی قانون کے تحت زمین ملی تھی؟ رجسٹر میں انٹری سے کیا ملکیت ہو جاتی ہے؟ زمین گرانٹ کی گئی تھی، کس نے لیز ایشو کی تھی؟ ہماری رائے میں لیز سرکاری ادارہ یا قانون دیتا ہے، کوئی انفرادی شخص یا ممبر لیز نہیں دے سکتا۔ آپ کس کو رپورٹ کرتے ہیں؟ سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی نے بتایا کہ وہ میونسپل کمشنر کو رپورٹ کرتے ہیں۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ نوٹس نکالیے، سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی معاونت نہیں کر سکے، میونسپل کمشنر کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔ سربراہ جوڈیشل کمیشن نے تنویر سے پوچھا کہ گل پلازا بند ہونے کا وقت کیا ہے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی نے مقررہ وقت پر بند کرنے کا پابند نہیں کیا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا دروازے ایک ایک کر کے بند کرتے تھے؟ تنویر کا کہنا تھا کہ 20 سے 25 منٹ میں دروازے بند کرنے کا عمل مکمل ہوتا ہے، ہفتے کو 10 بج کر 45 منٹ پر دروازے بند کرنا شروع کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے سوال نامہ تیار کر لیا، لواحقین سے کیا سوال پوچھے گئے ہیں؟

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ کیا واقعے کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ موجود ہے؟ تنویر نے بتایا کہ بیسمنٹ میں سیکیورٹی روم میں ڈی وی آر لگے تھے، دو ماہ پہلے سی سی ٹی وی سسٹم اپ گریڈ کیا گیا تھا، 280 سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے، عمارت کی مرکزی راہداری 6 سے 8 فٹ کی ہیں، میزانائن پر 10 فٹ کی راہداریاں ہیں۔

سربراہ کمیشن نے پوچھا کہ اپروو پلان کے مطابق کتنی دکانیں ہیں؟ صدر گل پلازا تنویر نے بتایا کہ میں نے عمارت نہیں بنائی، گل پلازا میں 1153 دکانیں ہیں اور تمام لیز ہیں۔ 2003 میں بیسمنٹ سے پارکنگ ختم کر کے چھت پر پارکنگ بنائی گئی۔ ایس بی سی اے نے کہا مزید منزلیں نہیں بنا سکتے، اسی کو توسیع دیں۔ سب لیز کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں، دکانداروں سے 1500 روپے مینٹیننس وصول کی جاتی تھی، ہم نے دکان مالکان کو کہا تھا کہ کرایہ معاہدے ہمارے ذریعے کیے جائیں۔

جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ عمارت کی انتظامیہ کا کیا کردار تھا؟ تنویر پاستا نے بتایا کہ ہم عمارت کا کام، صفائی، سی سی ٹی وی اور چوکیدار کا انتظام کرتے تھے۔ جب آگ لگی تب گل پلازا میں 6 چوکیدار تھے۔

کمیشن نے سی ای او کے ڈبلیو ایس کارپوریشن سے 12 سوالات کے جوابات اور 7 دستاویزات طلب کر لیے ہیں۔ ہائیڈرنٹس کیسے چلائے جا رہے ہیں، ایس او پیز پیش کی جائیں۔

تنویر کا کہنا تھا کہ 2005 میں آخری لیز بیسمنٹ کی ہوئی تھی۔ آگ بجھانے والے 100 سلنڈر اور 65 بال تھیں۔ سلنڈر ایک ماہ پہلے ہی دوبارہ بھروائے گئے تھے۔ تمام ریکارڈ دفتر میں ہوتا تھا جو جل چکا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کی تنظیم رجسٹرڈ ہے؟ تنویر کا کہنا تھا کہ یہ رجسٹرڈ تنظیم نہیں۔

کمیشن نے تنویر سے سوال کیا کہ اگر آپ درمیان میں ہیں تو باہر نکلنے میں کتنا وقت لگے گا؟ تنویر نے بتایا کہ باہر نکلنے اور دیگر منزلوں پر جانے کے متعدد راستے تھے، ہمارے 40 رضاکار ہوتے تھے، 5 شہید ہوئے ہیں۔ میں 2024 میں گل پلازا کا صدر بنا، اس سے پہلے آر جے مال میں بلڈر کے ساتھ تھا۔ آگ لگنے کے بعد 95 فیصد لوگ نکل گئے۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ کیا آپ نے تمام سیل ڈیڈ کراچی چیمبر کو فراہم کیے ہیں؟ کیا آپ وہ سیل ڈیڈ ہمیں فراہم کر سکتے ہیں؟ ہمیں ٹائٹل دیکھنے ہیں۔ دوبارہ عمارت بنتی ہے تو ان کو وہی دکانیں دوبارہ ملیں گی؟ یہ نجی پراپرٹی ہے لیکن سرکار آپ کو دوبارہ بنا کر دے گی؟ یہ سوالنامہ جمع کروائیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام، نوٹیفکیشن جاری

آپ کے ریکارڈ میں گل پلازا کی کیا تفصیلات ہیں؟ جسٹس آغا فیصل کا ڈی جی ایس بی سی اے سے سوال۔ ڈی جی ایس بی سی اے نے جواب دیا کہ انور علی نے 1979 میں بلڈنگ پلان اپروو کروایا، 1991 میں پرانی تاریخ سے لیز توسیع کی گئی، 1998 میں ری وائزڈ پلان منظور ہوا، 150 غیر معیاری دکانیں تعمیر کی گئیں، دکان کی کم از کم جگہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ 2003 میں حکومتی پالیسی کے تحت اسے ریگولرائز کیا گیا۔ حقیقت میں تمام دکانیں پہلے ہی بیچی جا چکی تھیں۔ 2015 میں مزید فلور کی اجازت طلب کی گئی۔ ہمارے ریکارڈ میں میزانائن فلور نہیں، مزید فلور کی درخواست مسترد کی گئی۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ بیسمنٹ کے علاوہ کسی اور منزل کے لیے ایس بی سی اے نے این او سی جاری نہیں کی؟ کیا کراچی میں کسی بھی عمارت میں بیسمنٹ میں دکانیں بنائی جا سکتی ہیں؟ ڈی جی ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ کمپلیشن کے بعد ایس بی سی اے کا کام ختم ہو جاتا ہے، عمارتوں کی زیادہ تر کمیٹیاں رجسٹر نہیں ہوتیں۔ اگر شکایت ہوتی ہے تو کارروائی کرتے ہیں، اگر کہیں زائد فلور بنائے جائیں تو توڑ دیتے ہیں۔ عمارت مکمل ہونے کے بعد ہم سروے نہیں کر سکتے۔ ہم نے بطور پہلی منزل این او سی جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ کے متاثرین کو مفت پلاٹ دیں گے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا اعلان

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ اضافی منزل بننے کے بعد کیا شکایت کا انتظار کیا جاتا ہے؟ ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ بلڈنگ انسپکٹر یا شکایت کی صورت میں کارروائی کی جاتی ہے۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ اگر زائد دکانیں بنائی جائیں تو کیا آپ کا دائرہ اختیار ہے؟ ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ اگر شکایت ہو تو کارروائی کر سکتے ہیں، جس پر جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ یعنی اس کا کوئی ریگولیٹری میکنزم نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان