رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے تقریباً 10 ایف-16 لڑاکا طیارے یو ایس فورسز کوریا کے تحت اوسان ایئر بیس سے پرواز کر کے بین الاقوامی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ یہ اڈہ دارالحکومت سیول سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ طیاروں نے بحیرۂ زرد کے اوپر اس علاقے میں پرواز کی جو جنوبی کوریا اور چین کے فضائی دفاعی شناختی زون کے درمیان واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ساتھ تصادم خطے میں ناقابل برداشت تباہی لا سکتا ہے، چینی وزیر دفاع
رپورٹ کے مطابق جیسے ہی امریکی طیارے چین کے ساحل کے قریب پہنچے تو چین نے بھی فوری طور پر اپنے لڑاکا طیارے روانہ کر دیے۔ دونوں ممالک کے طیارے مختصر وقت کے لیے ایک دوسرے کے سامنے رہے، تاہم کسی قسم کی خلاف ورزی یا جھڑپ پیش نہیں آئی۔
یہ خبر سب سے پہلے کوریا ہیرالڈ نے متعدد ذرائع کے حوالے سے دی، جس میں کہا گیا کہ اس مشن میں امریکی طیاروں کی غیر معمولی تعداد شامل تھی، جس کا مقصد چین کو طاقت کا پیغام دینا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا نے اس مشن کے بارے میں جنوبی کوریا کو پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ جبکہ چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے تصدیق کی کہ چینی فوج نے سمندری اور فضائی نگرانی کے ذریعے صورتحال کا مؤثر جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے چینی دباؤ سے نکلنے کے لیے میانمار کی نایاب معدنیات پر نظریں گاڑھ لیں
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے حال ہی میں اپنی نئی دفاعی حکمت عملی جاری کی ہے، جس میں جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے خلاف دفاع میں مرکزی کردار دینے اور امریکی فوج کی توجہ چین کی جانب منتقل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر، جسے چین اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔













