ہوٹلز، اسپتال اور کاروباری اداروں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ، پوائنٹ آف سیلز لازمی قرار

جمعہ 20 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی شفافیت اور ٹیکس ریونیو کے تحفظ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 14 سے زائد شعبوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہوٹلز، ریسٹورینٹس، اسپتال، میرج ہالز، ہیلتھ کلبز اور دیگر کاروباری اداروں میں پوائنٹ آف سیلز (POS) انسٹال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

میڈیا میں شائع جواد ملک کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت لانا اور تمام کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی ممکن بنانا ہے۔

کاروباری شعبوں میں پوائنٹ آف سیلز کا نفاذ

نوٹیفکیشن کے مطابق ہوٹلز، ریسٹورینٹس، گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز، مارکیز اور ریس کلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہے، تاہم جہاں ایئر کنڈیشنر کی سہولت موجود نہیں وہاں استثناء دی گئی ہے۔ دکانیں، ہوٹلز، کلبز، اسپتال اور بیوٹی پارلرز سمیت مختلف کاروباری اداروں کو ایف بی آر کے نظام سے منسلک کرنا لازمی ہوگا۔

صحت اور میڈیکل اداروں پر پابندیاں

شہروں میں چلنے والی گاڑیوں، کورئیر اور کارگو سروسز کو بھی POS لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈینٹسٹ، فزیوتھراپسٹ، پلاسٹک اور ہیئر سرجنز، ویٹرنری ڈاکٹرز، میڈیکل لیب، ایکسرے، سی ٹی اور ایم آر آئی اسکین سینٹر پر بھی یہ شرط لاگو ہوگی۔ پرائیویٹ اسپتالوں اور 500 روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو استثنیٰ حاصل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ، ایف بی آر نے لسٹ جاری کر دی

ہیلتھ کلبز، جم اور کاسٹ مینجمنٹ کے لیے ہدایات

ہیلتھ کلبز، جمز، سوئمنگ پولز، ملٹی پرپز کلبز، سول اور نان سول پولو کلب، چارٹڈ اکاؤنٹنٹس اور کاسٹ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کے لیے بھی POS انسٹال کرنا لازمی ہوگا۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موجود جمخانے اور کلبز میں اس کا نفاذ کیا جائے گا۔

دیگر شعبوں میں آن لائن انٹیگریشن

ریٹیلرز، مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے لیے بھی آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فارن ایکسچینج ڈیلرز، کرنسی ایکسچینج کمپنیاں، نجی تعلیمی ادارے اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھی POS نظام کے تحت آئیں گے۔ ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو چھوٹ دی گئی ہے۔

ایف ب

مقصد اور حکمت عملی

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی شفافیت بڑھانے، ٹیکس کی وصولی میں بہتری لانے اور تمام کاروباری اداروں کی نگرانی کو آسان بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ٹیکس نظام مضبوط ہوگا بلکہ صارفین کے لیے بھی مالی لین دین میں سہولت اور شفافیت آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برنی سینڈرز کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان

امریکی کانگریس میں بڑا سیاسی بحران 2 اراکین جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد مستعفی

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا