شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں چھوٹی کمسن بچی آئینہ وزیر کی کرکٹ کھیلنے کی ویڈیو بنانے کے الزام میں مقامی صحافی زعفران وزیر کو خوارج نے اغوا کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق زعفران وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے آئینہ وزیر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جسے خوارج نے ‘فحاشی’ اور ‘بے حیائی’ کو فروغ دینے کے مترادف قرار دیا۔ ویڈیو چند روز قبل وائرل ہوئی تھی اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسے بھرپور پذیرائی بھی ملی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: آئینہ وزیر کی وائرل ویڈیو بنانے والے زعفران وزیر اغوا کے بعد رہا، علاقے میں پرتپاک استقبال
ماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ خوارج عناصر اسلام کی من پسند اور خود ساختہ تشریح کے ذریعے اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، اور خواتین و بچوں کے حقوق، تعلیم، کھیل اور ترقی کے مواقع محدود کر کے انہیں معاشرتی سرگرمیوں سے دور رکھتے ہیں۔
یہ خوارجی معصوم بچوں کی سرگرمیوں کو بھی اپنے تنگ نظر نظریات کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔
مقامی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ خوارج عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے اور علاقے کو ان کے ناپاک اثرات سے پاک کیا جائے۔












