وفاقی حکومت بجلی اور گیس کی ٹیرف میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت موجودہ استعمال پر مبنی سلیب سسٹم کو ختم کرکے آمدنی پر مبنی قیمتوں کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ یہ تبدیلی آئی ایم ایف کے جاری پروگرام سے منسلک اصلاحات کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق مجوزہ ماڈل میں سبسڈی کا تعین گھرانوں کی آمدنی کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ بجلی یا گیس کے استعمال کی مقدار پر۔ یہ توانائی کے شعبے میں ایک اہم ساختاتی تبدیلی ہوگی جس سے غیر ضروری اخراجات کم ہوں گے اور سبسڈی صرف مستحق گھرانوں تک پہنچے گی۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا سحر و افطار کے اوقات میں بجلی اور گیس بلاتعطل فراہم کرنے کا اعلان
مگر کیا پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتوں کا موجودہ استعمال پر مبنی نظام تبدیل ہو کر آمدنی پر مبنی ماڈل بن سکتا ہے؟ اور یہ کتنا موثر ثابت ہوسکتا ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر عابد سلہری کے مطابق حکومت توانائی کے ٹیرف کے موجودہ نظام میں بڑی اصلاحات پر غور کر رہی ہے تاکہ سبسڈی کو زیادہ مؤثر اور درست مستحقین تک محدود کیا جا سکے۔

ان کے خیال میں آئندہ قیمتوں کا تعین صرف بجلی یا گیس کے استعمال کی بنیاد پر نہیں بلکہ گھرانوں کی مالی حیثیت کو سامنے رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے گھرانوں کی آمدنی کا اندازہ لگانے میں بینظیر انکم سپورٹ کے تصدیق شدہ ریکارڈ اور National Socio-Economic Registry کی معلومات استعمال کی جا سکتی ہیں، جبکہ ٹیکس اداروں اور یوٹیلٹی کمپنیوں کے درمیان ڈیٹا کے باہمی ربط سے صارفین کی معاشی درجہ بندی مزید واضح ہو سکے گی۔ اس طرح نیا نظام موجودہ سلیب طریقۂ کار کے بجائے آمدنی کو بنیادی بنیاد بنا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس تبدیلی سے درمیانی اور بہتر مالی حیثیت رکھنے والے گھرانوں کو کم سبسڈی ملے گی یا بعض صورتوں میں ختم بھی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں مکمل اوسط ٹیرف ادا کرنا پڑ سکتا ہے جو موجودہ نرخوں سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح وہ گھرانے بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو کم یونٹس استعمال کرنے کی وجہ سے پہلے رعایت حاصل کر لیتے تھے، مگر آمدنی کی بنیاد پر انہیں زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی پالیسی میں بڑا یوٹرن اور سبسڈی نظام بدلنے کی تیاری، کیا متوسط طبقہ نشانے پر ہے؟
ان کے نزدیک اس عمل سے زیادہ آمدنی والوں پر دی جانے والی کراس سبسڈی کم ہوگی اور اس سے صنعتی صارفین کیلئے نرخ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے پیداواری سرگرمیوں کو سہارا ملے گا۔
عابد سلہری کے مطابق اس اصلاح کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومتی مالی معاونت صرف حقیقی کم آمدنی والے طبقوں تک محدود رہے۔ موجودہ سلیب نظام میں قیمتوں کے ڈھانچے میں بگاڑ موجود ہے جہاں لاکھوں ایسے صارفین رعایت لے رہے ہوتے ہیں جو مالی طور پر مستحق نہیں سمجھے جاتے۔ نئے نظام کے تحت کمزور گھرانوں کو براہِ راست مالی مدد دی جا سکتی ہے، مثلاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نقد ادائیگی، جو تصدیق شدہ سماجی و معاشی ڈیٹا پر مبنی ہوگی، تاکہ توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی کے باوجود ان پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔ اگرچہ فکسڈ چارجز میں اضافہ ہو چکا ہے، مگر سبسڈی میں ردوبدل سے کمزور صارفین کے تحفظ کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی اصلاحات توانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنے اور نظام کو زیادہ پائیدار بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو پاکستان کے جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی توانائی اصلاحات سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق اس منتقلی کو مرحلہ وار مکمل کرنے کا ہدف رکھا جا سکتا ہے اور آئندہ مذاکراتی مشنز میں اس کی مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں، جبکہ کامیابی کے لیے درست ڈیٹا، شفاف طریقۂ کار اور عوامی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے جعلی ٹریفک چالان تک، اسکیمرز شہریوں کو کیسے لوٹ رہے ہیں؟
معاشی ماہر شہباز رانا کے مطابق مختلف حکومتیں ماضی میں اس تجویز پر غور کرتی رہی ہیں کہ بجلی کے فی یونٹ دی جانے والی عمومی سبسڈی کو بتدریج ختم کر کے اس کی جگہ ہدفی مالی معاونت دی جائے۔ اس ماڈل کے تحت بینظیر انکم سپورٹ کے اسکور کارڈ اور غربت کے ڈیٹا کو بنیاد بنا کر غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست رقم منتقل کی جا سکتی ہے، تاکہ مدد صرف مستحق طبقوں تک محدود رہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس تصور پر پالیسی سطح پر بات ضرور ہوتی رہی ہے، مگر اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے فی الحال کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اس کیلئے حتمی ٹائم لائن طے کی گئی ہے۔

معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق پاکستان کے بجلی کے نظام میں حالیہ اصلاحات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب بجلی کے بلوں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کے ٹیکس ریکارڈ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد صارفین کی اصل آمدنی کا درست اندازہ لگانا ہے تاکہ سبسڈی کو زیادہ ہدفی اور موثر طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔ اس نئے نظام میں صرف استعمال شدہ یونٹس کی بنیاد پر سبسڈی دینے کے بجائے صارف کی مجموعی مالی حیثیت کو بھی دیکھا جائے گا جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ سبسڈی واقعی مستحق افراد تک پہنچے اور اعلیٰ آمدنی والے لوگ غیر ضروری ریلیف سے محروم رہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل ٹھیک کرانے آئی خاتون پر سیکیورٹی گارڈ کا تشدد، گھسیٹ کر باہر نکال دیا
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ضمن میں رہائشی علاقہ اور طرز زندگی کو بھی اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی کے کلفٹن یا اسلام آباد اور لاہور کے دیگر پوش علاقوں میں رہنے والے افراد عموماً بہتر مالی حالت رکھتے ہیں۔ بہت سے ایسے گھرانے سولر سسٹم لگا کر اپنے بجلی کے بل کم کر لیتے ہیں جس سے وہ کم یونٹس استعمال دکھاتے ہیں اور کم ٹیرف یا لائف لائن کیٹیگری کا فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
نئے نظام میں آمدنی ٹیکس ریکارڈ علاقہ اور دیگر عوامل کو ملا کر فیصلہ کیا جائے گا کہ کسے کتنی سبسڈی ملنی چاہیے جس سے لیکیج اور غلط فائدہ اٹھانے کا رجحان نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

راجہ کامران کے مطابق اس تبدیلی کے مختلف صارفین پر مختلف اثرات مرتب ہوں گے۔ جو لوگ پہلے کم یونٹس یعنی تقریباً دو سو یونٹ تک استعمال کرتے تھے مگر ان کی آمدنی زیادہ ہے ان کی سبسڈی کم ہو سکتی ہے اور بل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو گھرانے زیادہ یونٹس یعنی تین سو سے سات سو یا اس سے زیادہ استعمال کرتے ہیں مگر آمدنی نسبتاً کم ہے انہیں زیادہ ریلیف مل سکتا ہے اور ان کے بل کم ہو سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی مجموعی طور پر سماجی انصاف کو فروغ دے گی کیونکہ سبسڈی کا بوجھ حقیقی طور پر غریب اور متوسط طبقے تک پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی اور گیس ٹیرف سلیب جاری رکھا جائے، آئی ایم ایف کی پاکستان کو تجویز
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ایک عرصے سے یہ رجحان رہا ہے کہ لوگ کم ٹیرف حاصل کرنے کے لیے گھر میں دو یا تین الگ الگ بجلی کے میٹر لگوا لیتے تھے تاکہ ہر میٹر پر یونٹس کم رہیں اور سبسڈی کا فائدہ ملتا رہے۔ آمدنی پر مبنی اس نئے نظام کے نافذ ہونے کے بعد یہ رجحان نمایاں طور پر کم ہو جائے گا اور لوگ ایک ہی میٹر استعمال کرنے کی طرف راغب ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ یہی رہا ہے کہ سبسڈی واقعی مستحق لوگوں تک پہنچے اور غیر ضروری اخراجات کم ہوں۔ اس سلسلے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک کامیاب مثال ہے جس نے ڈیٹا کی بنیاد پر غریب گھرانوں کی نشاندہی کی اور لاکھوں خاندانوں کو درست مدد فراہم کی۔

اسی طرز پر اگر بجلی کے شعبے میں بھی ایف بی آر نادرا اور دیگر اداروں کے ڈیٹا کو مربوط کر کے ایک مضبوط ہدفی سبسڈی کا نظام بنایا جائے تو توانائی کے شعبے پر مالی بوجھ کم ہو گا کراس سبسڈی ختم ہو گی اور سماجی انصاف میں بہتری آئے گی۔ یہ اصلاحات نہ صرف توانائی کے شعبے کو پائیدار بنائیں گی بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گی۔














