بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ریوا کے گاؤں ہیناوتا میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین کو مبینہ طور پر زندہ دفن کرنے کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ٹرک نے بجری گراتے ہوئے دونوں خواتین کو مٹی تلے دبا دیا، تاہم مقامی دیہاتیوں کی بروقت مداخلت کے باعث ان کی جان بچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت، ایم بی اے طالبہ کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ، ملزم گرفتار
مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں خواتین موقع پر موجود تھیں اور اچانک ایک ٹرک نے ان پر بجری انڈیل دی۔ اہلِ علاقہ نے شور سن کر فوری طور پر مدد کے لیے دوڑ لگائی اور ملبہ ہٹا کر خواتین کو باہر نکالا۔ دونوں کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین کا تعلق نچلی ذات سے ہے، جس کے باعث اس واقعے کو ذات پات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات اور محرکات کے بارے میں باضابطہ بیان سامنے آنا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی میں ہولناک سانحہ: بیٹے نے ماں، باپ اور بھائی کو قتل کر ڈالا
انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں نچلی ذات کے ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو اکثر سماجی امتیاز اور تشدد کا سامنا رہتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں ایسے واقعات وقتاً فوقتاً رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جس سے کمزور طبقات کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر اس میں مجرمانہ غفلت یا دانستہ اقدام ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔













