ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں 24 سالہ ایم بی اے طالبہ کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کو اس کے کلاس فیلو اور مبینہ بوائے فرینڈ پیوش دھامنوتیا نے اپنے کرائے کے مکان پر بلا کر قتل کیا۔ ملزم کو بعد ازاں ممبئی سے گرفتار کر کے اندور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وہ پولیس ریمانڈ پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت قتل عام پر مقدمات میں مطلوب حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، بی این پی
پولیس کے مطابق طالبہ 10 فروری کو گھر سے نکلی اور اہل خانہ کو بتایا کہ وہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد رات تک واپس آ جائے گی، تاہم وہ گھر نہ لوٹ سکی۔ اسی رات اس کے موبائل فون سے ایک مشتبہ پیغام بھیجا گیا کہ وہ گھر واپس نہیں آئے گی، جس کے بعد فون بند ہو گیا۔ اگلے روز اس کے موبائل سے قابلِ اعتراض ویڈیوز کالج کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی گئیں، جس پر کالج انتظامیہ نے اہل خانہ کو اطلاع دی۔

اہل خانہ کی جانب سے متعدد تھانوں سے رجوع کرنے کے بعد گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ 2 روز بعد ملزم کے کرائے کے مکان سے بدبو آنے کی شکایت پر پولیس نے دروازہ توڑا تو اندر سے طالبہ کی لاش برآمد ہوئی، جو شدید حد تک مسخ ہو چکی تھی۔ پولیس کے مطابق گردن پر رسی کے نشانات ملے، جس سے گلا گھونٹنے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو طالبہ کے ساتھ مکان میں داخل ہوتے اور چند گھنٹوں بعد اکیلے ایک بیگ کے ساتھ نکلتے دیکھا گیا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر طالبہ کو جنسی تعلق پر مجبور کیا، مزاحمت پر اسے باندھا اور گلا گھونٹ دیا۔ بعد ازاں اس نے شواہد مٹانے کی کوشش کی اور فرار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی فوج کے ہاتھوں فیلانی خاتون کا قتل، ڈھاکا میں احتجاجی مارچ کا اعلان
پولیس کے مطابق ملزم اندور سے ممبئی پہنچا، مختلف مقامات پر قیام کیا اور مقتولہ کا موبائل فون تباہ کر دیا۔ مزید یہ کہ اس نے ایک ویران مقام پر جا کر مبینہ طور پر عجیب و غریب رسومات ادا کرنے کی بھی کوشش کی۔
ملزم، جس کا تعلق مدھیہ پردیش کے ضلع مندسور سے بتایا جاتا ہے، کو ممبئی پولیس کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ دورانِ تفتیش اس نے مختلف بیانات دیے اور دعویٰ کیا کہ دونوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جس کے بعد جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔

واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان نے پولیس کی ابتدائی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔












