لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ قانون کے تحت کارروائیوں کے خلاف دائر درجنوں درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
عدالت نے ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں (ڈی آر سی) کی جانب سے پراپرٹیوں پر قبضے دلوانے کے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور زیر سماعت تمام درخواستیں نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت قائم ٹریبونل کو بھجوا دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ میں اینٹی ریپ ایکٹ کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق ترمیمی آرڈیننس میں بہت سی چیزوں کو تبدیل کیا گیا ہے، ڈی آر سی کمیٹیوں کے پاس جوڈیشل اختیارات نہیں ہوں گے اور اگر فریقین کے درمیان کمپرومائز ہوا تو کمیٹی وہ معاملہ کمپرومائز ٹریبونل کے روبرو پیش کرے گی۔ ٹریبونل میں ریٹائرڈ ججز کی بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز تعینات کیے جائیں گے اور اگر کسی شکایت کو جھوٹا ثابت کیا گیا تو ٹریبونل کے پاس شکایت کنندہ کو 5 سال تک سزا دینے کا اختیار ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریبونل کو درخواست پر 30 روز میں فیصلہ کرنا ہوگا اور اگر کوئی کیس عدالت میں زیر سماعت ہو تو متعلقہ عدالت ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اسے ٹریبونل میں ٹرانسفر کرنے کی اجازت دے گی، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں زیر التوا کیسز ناقابل ٹرانسفر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی تحفظ قانون کو مسترد کردیا، عدلیہ مخالف پروپیگنڈے پر تحفظات کا اظہار
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وکیل درخواست گزار اظہر صدیق سے مکالمے میں کہا کہ اگر قانون میں 80 فیصد تبدیلیاں آئیں تو نئے قانون کے خلاف نئی درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جن درخواستوں میں پہلے آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا، وہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد غیر موثر ہو گئی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ٹریبونل تمام درخواستوں کو نئے قانون کے مطابق سن کر فیصلہ کرے، جبکہ پہلے ہائیکورٹ کے ذریعے پراپرٹیوں کے قبضے دلوائے گئے فیصلے برقرار رہیں گے۔














