محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال رمضان المبارک ممکنہ طور پر 30 دنوں پر مشتمل ہوگا، کیونکہ 19 مارچ (29 رمضان) کی شام شوال کا چاند نظر آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
فلکیاتی تجزیہ کیا کہتا ہے؟
پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے مطابق فلکیاتی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1447 ہجری کے شوال کا نو چاند 19 مارچ کی شام کو نظر آنے کے امکانات نہیں ہیں۔
محکمہ کے مطابق چاند کی عمر رویت کے وقت 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان متوقع ہے، جو عام طور پر آنکھ سے دیکھنے کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔ اسی بنیاد پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل ہوں گے۔
پی ایم ڈی نے واضح کیا ہے کہ یہ پیش گوئی سائنسی اور فلکیاتی حساب کتاب پر مبنی ہے، تاہم عیدالفطر کے چاند کا حتمی اعلان کرنا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اختیار ہے۔
یعنی شوال کے چاند اور عیدالفطر کی تاریخ کا باضابطہ فیصلہ کمیٹی کے اجلاس اور شہادتوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔










