پولینڈ کے تاریخی شہر کراکوف کے مرکزی مارکیٹ اسکوائر میں مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے 5 افراد ہلاک اور تقریباً 12 دیگر زخمی ہو گئے، پولیس نے جوابی کارروائی کے دوران ملزم کو گولی مار کر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ2 پولیس اہلکار بھی فائرنگ سے زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق واقعہ شہر کے معروف مرکزی بازار میں پیش آیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اور سیاحوں کی اہم ترین تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
فوجی طرز کا لباس پہنے مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ
مالوپولسکا پولیس کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر فوجی طرز کا لباس پہن رکھا تھا اور لوگوں پر بے ترتیب فائرنگ کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح شخص نے گاڑی سے فائرنگ کی اور بعد ازاں فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے تعاقب کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور پولینڈ کا تمام شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
پولیس ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے دوران اہلکاروں نے اپنے ہتھیار استعمال کیے، تاہم حملہ آور نے بھی جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
So a fucking shooting in Krakow – a guy shoots people from his car at people gathered at a demonstration on the Main Square – and to think that if I still lived in Krakow I would be at there at that moment! Insane things are happening in Poland! God protect Poland https://t.co/32FTjWqjjn
— OpticNoir (@OpticNoir) November 7, 2026
پولیس کے مطابق ملزم بھی اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا، جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
زخمی پولیس اہلکار کی حالت تشویش ناک
پولینڈ کے وزیر داخلہ مارسن کیروینسکی نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اہلکار کو 3 گولیاں لگی ہیں اور اس کا آپریشن جاری ہے۔
واقعے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کراکوف روانہ، سیاست دانوں سے اپیل
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے واقعے کو انتہائی افسوس ناک اور المناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کراکوف روانہ ہو گئے ہیں تاکہ واقعے کی صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔ ایکس پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹسک نے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس جرم کے تمام پہلوؤں اور حالات کا تعین کریں گے۔‘
مارکیٹ اسکوائر میں پولیس اور امدادی اداروں کی بھاری نفری تعینات
فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ کی سامنے آنے والی تصاویر میں پولیس اہلکاروں، ایمبولینسوں اور امدادی ٹیموں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔
پولینڈ کی میڈیکل ایئر ریسکیو سروس کا ہیلی کاپٹر بھی متاثرہ مارکیٹ اسکوائر میں اترا، جہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور صورت حال پر قابو پانے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رہیں۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا پولینڈ کے لیے بڑا اعلان، مزید 5 ہزار امریکی فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ
واقعے کے بعد تاریخی مارکیٹ اسکوائر اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے۔
گاڑی سے ٹرام پر بھی فائرنگ، واقعے کی تحقیقات جاری
کراکوف کے پبلک ٹرانسپورٹ ادارے ایم پی کے ، کے مطابق مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے کے کچھ دیر بعد ایک گاڑی سے اس کی ایک ٹرام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ٹرانسپورٹ ادارے نے اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ گاڑی سے کی گئی تھی۔
پولیس حکام واقعے کے تمام پہلوؤں، حملہ آور کے محرکات اور فائرنگ کے مختلف واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
تاحال حکام کی جانب سے حملہ آور کی شناخت، فائرنگ کے محرکات یا واقعے کی حتمی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔











