سپریم کورٹ نے پولیس اہلکار شہزاد حسین کی ملازمت پر بحالی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پولیس جیسے منظم اور تادیبی ادارے میں وہی اہلکار خدمات انجام دے سکتے ہیں جن کا کردار شک و شبہ سے بالاتر اور بے داغ ہو۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ فوجداری مقدمے میں بریت پولیس جیسے منظم ادارے میں ملازمت پر بحالی کا خود بخود حق فراہم نہیں کرتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض بریت تادیبی فورس میں بحالی کے لیے کسی قسم کا لائسنس نہیں سمجھی جا سکتی، خصوصاً جب بریت میرٹ پر نہیں بلکہ گواہوں کے منحرف ہونے اور شکایت کنندہ کے صلح نامے کی بنیاد پر ہوئی ہو۔
یہ بھی پڑھیے: غیر منصفانہ برطرفی کے شکار پولیس اہلکار مکمل واجبات کے حق دار، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
فیصلے میں کہا گیا کہ محکمانہ انکوائری اور فوجداری ٹرائل میں ثبوت کا معیار مختلف ہوتا ہے، اس لیے فوجداری عدالت سے بری ہونے کے باوجود محکمانہ کارروائی اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتی ہے۔
عدالت کے مطابق پنجاب سروس ٹریبونل نے کانسٹیبل کی اپیل ایک سال سے زائد تاخیر کی بنیاد پر خارج کی تھی۔ ریکارڈ کے مطابق کانسٹیبل شہزاد حسین کو اینٹی کرپشن حکام نے رشوت وصولی کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ الزام تھا کہ اس نے نوکری دلوانے کے نام پر 2 لاکھ روپے طلب کیے اور 30 ہزار روپے پیشگی وصول کیے۔
گرفتاری کے وقت جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں چھاپہ مار کر ملزم سے نشان زدہ رقم برآمد کی گئی تھی۔ بعد ازاں محکمانہ انکوائری میں کانسٹیبل کو قصوروار قرار دے کر سروس سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ’ہماری پولیس رشوت خور ہے اللہ ہدایت دے‘، پولیس اہلکاروں کے سامنے بچے کی دلچسپ دعا وائرل
تاہم اسپیشل جج اینٹی کرپشن نے 16 دسمبر 2022 کو کانسٹیبل کو فوجداری مقدمے سے بری کر دیا تھا، جس کے بعد اس نے بحالی کے لیے درخواست دائر کی تھی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔














