جنوبی چین کے خود مختار علاقے میں روایتی ’سو پرندوں کا لباس‘ نامی منفرد تہوار منایا گیا۔
تہوار میں مختلف نسلی گروہوں کے افراد نے شرکت کی اور چینی نئے سال کے موقع پر روایتی لباس زیب تن کیا۔ خواتین نے میاؤ ملبوسات اور چاندی کے ہیڈریسز پہنے جبکہ مردوں نے لوشینگ پر پرفارم کیا، شرکاء نے مل کر گانا بھی گایا اور رقص کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چترال میں 3 روزہ ’پھتک‘ تہوار کا منفرد رسومات اور لذیذ پکوانوں کے ساتھ آغاز
’سو پرندوں کا لباس‘، جو پرندوں کے پروں سے تیار کیا جاتا ہے مقامی میاؤ کمیونٹی کے نزدیک خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں پرانا یہ جشن میاؤ نسلی اقلیت کی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے جو چین کی تسلیم شدہ نسلی اقلیتوں میں شامل ہے اور عام طور پر چینی قمری نئے سال کے دوران منعقد ہوتا ہے۔
تہوار کا مرکزی عنصر خوبصورت اور رنگین کڑھائی والے ’سو پرندوں کے لباس‘ ہیں جو میاؤ لوک کہانیوں میں خوشی، خوشحالی اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار
ثقافتی حکام کے مطابق یہ تقریبات نہ صرف غیر مادی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ مقامی سیاحت اور دیہی معیشت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں کیونکہ لوشینگ موسیقی، روایتی رقص اور لباس کی نمائشیں ملکی و بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔














