رِچلینڈ پبلک لائبریری نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ہنری فورڈ کی سوانح حیات کی ایک کاپی تقریباً 64 سال بعد واپس واشنگٹن کی لائبریری پہنچائی گئی ہے۔
کتاب فورڈ: دا ٹائمز، دا مین، دا کمپنی جو ایلن نیوینز کی تصنیف ہے، ایک شخص نے اپنی دوست سے وراثت میں ملنے والی ذاتی کتابوں کے مجموعے میں سے دریافت کر کے واپس کی۔
یہ بھی پڑھیں: طالب علم نے 64 سال بعد کتاب لائبریری کو لوٹا دی
کتاب کی اصل واپسی کی تاریخ 17 مارچ 1962 تھی، یعنی یہ 63 سال، 11 ماہ اور ایک دن لیٹ تھی۔
لائبریری حکام کے مطابق اگر کتاب کے دیر سے واپس کرنے کے جرمانے پر کوئی حد نہ لگائی گئی ہوتی تو تاخیر کے سبب چند ہزار ڈالر کی فیس جمع ہوسکتی تھی۔ 2022 میں لائبریری نے مکمل فیس معاف کردی تھی۔
لائبریری کے مطابق اب صرف کھوئی ہوئی کتابوں پر متبادل فیس لگائی جاتی ہے، اگر کتاب اچھی حالت میں واپس کی جائے تو فیس معاف کردی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دماغی سڑاند جیسی اصطلاح اوکسفرڈ ڈکشنری میں کیسے پہنچی؟
کتاب واپس کرنے والے شخص نے لائبریری حکام کو بتایا کہ اسے اپنی وراثت میں ایک اور لائبریری کی کتاب بھی ملی ہے، جسے وہ پڑھنے کے بعد واپس کرے گا۔
ہنری فورڈ کون تھے؟
ہنری فورڈ ایک مشہور امریکی صنعت کار تھے جنہوں نے 20ویں صدی میں آٹوموبائل کی صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ وہ فورڈ موٹر کمپنی کے بانی تھے اور انہیں کاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور اسمبلی لائن کے نظام متعارف کروانے کے لیے جانا جاتا ہے، جس نے گاڑیاں سستی اور عام لوگوں کے لیے قابلِ خرید بنائیں۔
ہنری فورڈ نے اپنی زندگی میں جدید فیکٹری سسٹمز اور مزدوروں کے لیے بہتر اجرت کے نظام کو فروغ دیا، جس سے صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور امریکی معیشت میں ترقی ہوئی۔














