مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خرم دستگیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان صرف ایک نشست کا فرق رہ گیا ہے، جبکہ (ن) لیگ ایک تہائی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور حکومت بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی صوبوں کو منتقلی کے لیے نہ تو کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی ’این ایف سی ایوارڈ ‘ میں تبدیلی لازمی ہے، بلکہ یہ کام باہمی اتفاقِ رائے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے انتخابی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں براہِ راست 6 نشستیں حاصل کیں جبکہ 2 آزاد امیدواروں نے بھی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی نشستیں 8 ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمشنر کا بڑا فیصلہ، جی بی 8 اے اسکردو 2 میں دوبارہ پولنگ کا نوٹیفکیشن واپس، رکے نتائج جاری
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ابتدا میں 10 نشستیں حاصل کی تھیں، تاہم ایک حلقے میں دوبارہ گنتی کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد کم ہو کر 9 رہ گئی ہے۔
خرم دستگیر نے واضح کیا کہ ’24 رکنی ایوان میں 8 نشستیں حاصل کرنا ایک تہائی اکثریت کے مترادف ہے، اس لیے مسلم لیگ (ن) وہاں حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں موجود ہے‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے حتمی فیصلہ اعلیٰ ترین سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان مشاورت سے کیا جائے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2016 سے 2021 تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ’جی بی‘ میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے تھے اور خطے کی پائیدار ترقی کے لیے مستقبل میں بھی وفاقی معاونت کا کردار کلیدی رہے گا۔
اتحادی حکومتوں میں اختلافات اور بجٹ کی تیاریاں
مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے مابین تحفظات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ن لیگ کے سینیئر رہنما نے کہا کہ ’جہاں بھی اتحادی حکومتیں ہوتی ہیں، وہاں بعض امور پر معمولی اختلافات کا ہونا معمول کی بات ہے، تاہم اتحادی جماعتیں ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کر لیتی ہیں‘۔
’این ایف سی ایوارڈ‘ اور وفاقی اخراجات پر بات کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ حالیہ کشیدگی، دفاعی ضروریات میں اضافے اور بیرونی قرضوں کے بوجھ کے باعث وفاق کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیشِ نظر این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جانے والے وسائل کے حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ کچھ اختلافات موجود تھے، تاہم تعمیری مذاکرات کے بعد دونوں جماعتیں ایک متفقہ حل کے قریب پہنچ چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ 12 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔
انہوں نے آئینی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت ’این ایف سی ایوارڈ‘ میں صوبوں کے مقررہ مالیاتی حصے کی شرح کو کم نہیں کیا جا سکتا، البتہ وفاقی اخراجات کو متوازن کرنے کے لیے بعض انتظامی اقدامات پر غور ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق بی آئی ایس پی پر سالانہ تقریباً 712 ارب روپے خرچ کرتا ہے، جو وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے مجموعی حجم کا 65 سے 70 فیصد بنتا ہے، لہٰذا اس پروگرام کو صوبوں کے سپرد کرنے کے لیے فوری آئینی ترمیم کے بجائے سیاسی اتفاقِ رائے کا راستہ اپنایا جا سکتا ہے۔
28ویں آئینی ترمیم اور ٹیکس اصلاحات
خرم دستگیر نے انکشاف کیا کہ ’28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف تجاویز پر کام ہو رہا ہے، جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی آئینی و مالیاتی حیثیت سے متعلق امور بھی شامل ہیں، مستقبل میں ان خطوں کے مالی حصے اور وسائل کا تعین این ایف سی کے ذریعے ممکن بنایا جا سکے گا’۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی الوقت کوئی آئینی ترمیم فوری طور پر نہیں لائی جا رہی، بلکہ بجٹ کی منظوری کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر 28ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔
وفاقی بجٹ اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں میں ردو بدل یا نئے اقدامات کی حتمی تفصیلات بجٹ دستاویز سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے پاس اس وقت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور سخت معاشی اصلاحات نافذ کرنے کا بہترین سیاسی موقع موجود ہے۔
اگر زیادہ سے زیادہ شعبوں کو ٹیکس نظام کے دائرے میں لایا گیا تو ملکی معیشت پر اس کے طویل مدتی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
آزاد کشمیر انتخابات اور تنظیمی حکمتِ عملی
آزاد جموں کشمیر کے آئندہ انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے دوران بعض تنظیمی خلا اور تاخیر دیکھنے میں آئی، لیکن آزاد کشمیر کے انتخابات میں اس نوعیت کی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ سے بلوچستان، کشمیر تا گلگت: کیا پیپلز پارٹی موجودہ نظام کی سب سے بڑی بینیفشری بن چکی ہے؟
وہاں مسلم لیگ (ن) کو ایک منظم، متحرک اور بھرپور انتخابی مہم چلانی ہوگی تاکہ شاندار کامیابی حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ہمارے اصل رہنما ہیں جو ہر اہم معاملے پر پارٹی کی رہنمائی کرتے ہیں اور انہوں نے حال ہی میں گلگت بلتستان کے کارکنوں، امیدواروں اور مقامی قیادت سے ملاقات کرکے ان کا حوصلہ بھی بڑھایا ہے‘۔













