امریکی امیگریشن پالیسیوں نے ورلڈ کپ 2026 کو متنازع بنا دیا

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل امریکا کی ویزا اور امیگریشن پالیسیوں پر شدید تنقید سامنے آ رہی ہے، کیونکہ متعدد کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کو امریکا میں داخلے کے لیے مشکلات، تاخیر یا انکار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تنقید میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب صومالیہ کے معروف فٹبال ریفری عمر آرتان کو، جو ورلڈ کپ میں میچ آفیشل کے فرائض انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بننے جا رہے تھے، میامی ایئرپورٹ پر امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق انہیں سیکیورٹی جانچ پڑتال سے متعلق خدشات کے باعث ناقابلِ قبول قرار دیا گیا، حالانکہ ان کے پاس درست امریکی ویزا اور تمام مطلوبہ دستاویزات موجود تھیں۔

بین الاقوامی کھیلوں کے قانون کے ماہر خیران نور کے مطابق بڑے عالمی کھیلوں کے مقابلے صرف انتظامی اور سکیورٹی امور پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کی کامیابی تاثر، ماحول اور شمولیت پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میزبان ممالک کو سرحدی تحفظ اور قومی سلامتی کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، تاہم عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلے غیر معمولی سہولیات اور رسائی کا تقاضا کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی امریکی امیگریشن پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نسلی تعصب، نگرانی اور امیگریشن نفاذ سے متعلق خدشات ورلڈ کپ کو متاثر نہیں کریں گے۔

صرف آفیشلز ہی نہیں بلکہ مراکش، اسکاٹ لینڈ اور دیگر ممالک کے متعدد شائقین نے بھی شکایت کی ہے کہ ہزاروں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ان کے سفری دستاویزات مسترد یا منسوخ کر دیے گئے۔

ایرانی فٹبال ٹیم کو بھی ویزا کے معاملے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا، اگرچہ تمام کھلاڑیوں کو بالآخر ویزے جاری کر دیے گئے، تاہم ٹیم کے کئی انتظامی اور معاون عملے کے ارکان کو ویزا نہیں مل سکا۔

امریکی حکام کے مطابق ایرانی ٹیم میکسیکو کے شہر تیخوانا میں قیام کرے گی اور اپنے میچوں سے صرف ایک روز قبل امریکا میں داخل ہو سکے گی۔

عراقی اسٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو ایئرپورٹ پر تقریباً 7 گھنٹے تک حراست اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے موبائل فون کی بھی جانچ کی گئی۔

بعد ازاں انہیں داخلے کی اجازت دے دی گئی، تاہم عراقی قومی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو طویل پوچھ گچھ کے بعد امریکا میں داخلے سے انکار کر دیا گیا۔

ہیٹی کے مڈفیلڈر ووڈنسکی پیئر کو بھی تاخیر سے ویزا ملا، جس کے باعث وہ نیوزی لینڈ کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کر سکے۔

اسی طرح سوئٹزرلینڈ کے فارورڈ بریل ایمبولو کو ماضی کے ایک قانونی مقدمے کی وجہ سے ویزا مسائل کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد میں انہیں سفر کی اجازت دے دی گئی۔

فیفا کے 2017 کے میزبانی اصولوں کے مطابق ویزا کے معاملات میں غیر امتیازی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے، تاہم ساتھ ہی قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کو برقرار رکھنے کی شرط بھی شامل ہے۔

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیفا حکومتوں کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

ان کے مطابق عالمی فٹبال تنظیم ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن وہ حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp