فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل امریکا کی ویزا اور امیگریشن پالیسیوں پر شدید تنقید سامنے آ رہی ہے، کیونکہ متعدد کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کو امریکا میں داخلے کے لیے مشکلات، تاخیر یا انکار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تنقید میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب صومالیہ کے معروف فٹبال ریفری عمر آرتان کو، جو ورلڈ کپ میں میچ آفیشل کے فرائض انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بننے جا رہے تھے، میامی ایئرپورٹ پر امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق انہیں سیکیورٹی جانچ پڑتال سے متعلق خدشات کے باعث ناقابلِ قبول قرار دیا گیا، حالانکہ ان کے پاس درست امریکی ویزا اور تمام مطلوبہ دستاویزات موجود تھیں۔
🇺🇸 In New York, the Uzbekistan national football team was subjected to lengthy and thorough checks upon arrival for the World Cup.
All belongings and documents were removed, and metal detectors were used.
Earlier, the Senegal and Iraq squads faced similarly intensive screening,… pic.twitter.com/bJXqnoKC3V— DD Geopolitics (@DD_Geopolitics) June 9, 2026
بین الاقوامی کھیلوں کے قانون کے ماہر خیران نور کے مطابق بڑے عالمی کھیلوں کے مقابلے صرف انتظامی اور سکیورٹی امور پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کی کامیابی تاثر، ماحول اور شمولیت پر بھی منحصر ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میزبان ممالک کو سرحدی تحفظ اور قومی سلامتی کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، تاہم عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلے غیر معمولی سہولیات اور رسائی کا تقاضا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی امریکی امیگریشن پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نسلی تعصب، نگرانی اور امیگریشن نفاذ سے متعلق خدشات ورلڈ کپ کو متاثر نہیں کریں گے۔
“Maybe sometimes it's good as well to just, you know, chill, relax.”
FIFA President Gianni Infantino addressed concerns over Somali referee Omar Abdulkadir Artan being barred from entering the United States, telling critics to “chill” during a press briefing on Wednesday pic.twitter.com/kbOJ5rKxtu
— Middle East Eye (@MiddleEastEye) June 11, 2026
صرف آفیشلز ہی نہیں بلکہ مراکش، اسکاٹ لینڈ اور دیگر ممالک کے متعدد شائقین نے بھی شکایت کی ہے کہ ہزاروں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ان کے سفری دستاویزات مسترد یا منسوخ کر دیے گئے۔
ایرانی فٹبال ٹیم کو بھی ویزا کے معاملے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا، اگرچہ تمام کھلاڑیوں کو بالآخر ویزے جاری کر دیے گئے، تاہم ٹیم کے کئی انتظامی اور معاون عملے کے ارکان کو ویزا نہیں مل سکا۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی ٹیم میکسیکو کے شہر تیخوانا میں قیام کرے گی اور اپنے میچوں سے صرف ایک روز قبل امریکا میں داخل ہو سکے گی۔
AFRICAN CHAMPIONS SENEGAL TREATED LIKE CRIMINALS IN THE U.S.
Senegal, or the Lions of Teranga as they are known, are Africa's champions and one of the top-ranked teams in world football. However, upon their arrival in the United States, they were treated worse than criminals.… pic.twitter.com/mGy6zr8chu
— Sovereign Media (@sov_media) June 10, 2026
عراقی اسٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو ایئرپورٹ پر تقریباً 7 گھنٹے تک حراست اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے موبائل فون کی بھی جانچ کی گئی۔
بعد ازاں انہیں داخلے کی اجازت دے دی گئی، تاہم عراقی قومی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو طویل پوچھ گچھ کے بعد امریکا میں داخلے سے انکار کر دیا گیا۔
ہیٹی کے مڈفیلڈر ووڈنسکی پیئر کو بھی تاخیر سے ویزا ملا، جس کے باعث وہ نیوزی لینڈ کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کر سکے۔
A Fifa men's World Cup referee from Somalia, Omar Artan, who was denied entry to the US, returned to Mogadishu where he was welcomed by crowds and officials.
🎧 USA, Canada and Mexico are co-hosting the biggest ever World Cup, but which nation will go furthest in the tournament?… pic.twitter.com/ikyC9JoWPE
— BBC World Service (@bbcworldservice) June 10, 2026
اسی طرح سوئٹزرلینڈ کے فارورڈ بریل ایمبولو کو ماضی کے ایک قانونی مقدمے کی وجہ سے ویزا مسائل کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد میں انہیں سفر کی اجازت دے دی گئی۔
فیفا کے 2017 کے میزبانی اصولوں کے مطابق ویزا کے معاملات میں غیر امتیازی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے، تاہم ساتھ ہی قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کو برقرار رکھنے کی شرط بھی شامل ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیفا حکومتوں کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتی۔
ان کے مطابق عالمی فٹبال تنظیم ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن وہ حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔














