کوئٹہ کے ایک نجی ڈرگ بحالی مرکز میں مریض کے ساتھ تشدد کے معاملے پر پولیس، سوشل ویلفیئر اور صوبائی ڈائریکٹریٹ آف ہیومن رائٹس موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس نے تشدد کرنے والے 5 افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ بحالی سینٹر کے مالک علی احمد ابابکی فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: وکیل شمس الاسلام کا قتل کیوں ہوا؟ ملزم عمران آفریدی نے ساری کہانی سنادی
پولیس کے مطابق واقع کی رپورٹ درج کرنے کے بعد فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
سوشل ویلفیئر کے ڈائریکٹر ذہنی مریض پر تشدد نے بتایا کہ حکام بالا نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کی ذمہ داری سوشل ویلفیئر کو دی ہے۔ حنیف رند نے کہا کہ کسی ڈرگ سینٹر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مریضوں پر تشدد کرے اور یہ غیر انسانی سلوک قابل مذمت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھات کی تاروں پر اظہار جذبات ذہنی بحالی کا ذریعہ، نوجوان آرٹسٹ کی منفرد کہانی
ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے مزید کہا کہ تشدد کی جلد تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرائی جائے گی۔
متاثرہ مریض کا کہنا ہے کہ مذکورہ بحالی مرکز کوئی بحالی مرکز نہیں ہے، بلکہ یہاں پر ٹارچر کیا جاتا ہے، مریض نے درخواست کی کہ اس مرکز کو بند کیا جائے۔














