ایران پر حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس وقت جذباتی ردعمل کے بجائے دانشمندانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر ایران کی بھرپور حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی واضح طور پر حملے کی مذمت کی ہے۔
عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری جاری ہے، لہٰذا داخلی طور پر غیر ضروری شدت پسندی یا اشتعال انگیزی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔
مزید کہا گیا کہ اگر احتجاج شدت اختیار کر جائے، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچے یا قانون کو ہاتھ میں لیا جائے تو اس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ ہوگا۔
بیان کے مطابق دشمن کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر پاکستان کے اندر انتشار، فرقہ واریت یا بدامنی کو ہوا دی جائے، لہٰذا ان منصوبوں کو ناکام بنانا ضروری ہے۔
بیان میں مذہبی جماعتوں، علما کرام اور عوام الناس سے اپیل کی گئی کہ احتجاج کو مکمل طور پر پرامن رکھا جائے اور ریاستی قوانین کی پاسداری کی جائے۔
اس موقع پر زور دیا گیا کہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور قانون کی بالادستی ہی اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمیں جذبات کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور مستحکم ریاست کے طور پر سامنے آئے۔
واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔












