ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جنگی ماحول کے باعث خطے میں معاشی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات اور اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی تیل امریکا کے نشانے پر: درجنوں کمپنیوں اور افراد پر پابندی
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل 280 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد غیر قانونی طور پر اسمگل ہونے والے ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا کوئٹہ میں ایرانی تیل کی خرید و فروخت ہو رہی ہے؟
سرحدی اور ملحقہ علاقوں میں پہلے 180 سے 185 روپے فی لیٹر میں فروخت ہونے والا ایرانی پیٹرول اب 210 سے 220 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے جس سے شہریوں کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے۔
ایرانی پیٹرول کے کاروبار سے وابستہ مقامی تاجر احمد خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں حملوں اور کشیدہ صورتحال کے بعد پیٹرول کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا ہے جبکہ سرحد سے پیٹرول کی ترسیل میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق طلب میں اضافے اور رسد میں کمی کے باعث ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے رہائشی شہباز علی نے کہا کہ ایرانی پیٹرول موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا کیونکہ یہ مقامی پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً 70 سے 80 روپے فی لیٹر سستا ہوتا تھا۔ تاہم حالیہ صورتحال اور قیمتوں میں اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق اگر ایران کی صورتحال اور سرحدی سپلائی متاثر رہی تو آنے والے دنوں میں ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی موجود ہے، جس سے سرحدی علاقوں کے عوام مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔












