آئی ایم ایف وفد پاکستان سے روانہ، مذاکرات آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان جاری معاشی جائزہ مذاکرات سیکیورٹی صورتحال کے باعث آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا، جبکہ آئی ایم ایف وفد ابتدائی ملاقاتوں کے بعد پاکستان سے روانہ ہو گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تیسرے معاشی جائزے کے دوسرے مرحلے کے تحت آج سے اہم اجلاس شیڈول تھے، تاہم موجودہ سیکیورٹی ماحول کے پیش نظر مذاکرات کو ورچوئل فارمیٹ میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام اجلاس اب طے شدہ شیڈول کے مطابق آن لائن منعقد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف مشن کی کراچی آمد، مالیاتی توازن اور مانیٹری پالیسی کا جائزہ

پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ماہر بینیسی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات ورچوئل انداز میں جاری رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور مذاکرات پاکستان کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تیسرے جائزے پر مرکوز ہیں، جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے دوسرے جائزے پر بھی بات چیت جاری ہے۔

پیر کی صبح اسلام آباد میں تیسرے معاشی جائزے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا، جہاں آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کی اقتصادی ٹیم سے ابتدائی ملاقات کی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفد کو حالیہ معاشی بہتری سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی پر آئی ایم ایف کا خراج تحسین، پاکستان معاشی استحکام کے کتنا قریب؟

وزیر خزانہ کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح 5.2 فیصد تک کم ہوئی، شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گئی، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر تک محدود رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور بڑے صنعتی شعبے کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ نجکاری پروگرام میں پیش رفت جاری ہے جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں، جبکہ ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات پر کام جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی سے دسمبر 2025 کی رپورٹ پیش کی جس میں ٹیکس وصولیاں ہدف سے 329 ارب روپے کم رہیں، تاہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں بہتری نوٹ کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ آمدن میں کمی کی وجہ معاشی سرگرمیوں کی سست روی اور مہنگائی میں کمی رہی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت پاکستان کی اصلاحات کے مثبت نتائج ظاہرہونا شروع ہوگئے، منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا اعتراف

آئی ایم ایف نے اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے آمدن بڑھانے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے جاری قرض پروگرام کے تحت اگلی 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کی درخواست کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ورچوئل اجلاسوں سے جائزہ عمل متاثر نہیں ہوگا اور دونوں فریق موجودہ سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پروگرام پر پیش رفت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp