اسرائیلی اور امریکی افواج کی جانب سے ایران پر حملے بدستور جاری ہیں جن میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پر کیا گیا حملہ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی اے ای اے کی ایران کے نطنز افزودگی پلانٹ کے داخلی راستوں پر بمباری کی تصدیق
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے کی گئی ان کارروائیوں کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد بڑھ کر 787 تک پہنچ گئی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے لبنان میں فضائی حملوں میں بھی شدت پیدا کردی ہے اور ملک کے جنوبی حصے میں ایک نئی زمینی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے کو 2 ڈرونز نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور معمولی نقصان ہوا۔
ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں کم از کم 7 افراد زخمی ہو گئے۔
مزید پڑھیے: اسرائیل و امریکا کے ایران پر حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو سیاحت میں 60 ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بنی براک میں پیش آیا تل ابیب کے مشرق میں واقع ہے جبکہ مشرق کی جانب واقع شہر روش ہعین بھی حملے سے متاثر ہوا۔
عینی شاہدین کے حوالے سے نشریاتی اداروں نے بتایا کہ میزائلوں کے گرنے اور ان کے ٹکڑوں (شریپنل) کے باعث متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا انتظار ہے۔
اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری فوجی کارروائی کے بارے میں کہا ہے کہ ایران میں سب کچھ تباہ کردیا گیا ہے اور اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔
صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے برطانیہ کی حکمت عملی پر اپنی عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں عارضی طور پر بلند رہ سکتی ہیں، لیکن جنگ کے اختتام پر قیمتیں کم ہو جائیں گی اور امید ہے کہ اس کے بعد تیل کی قیمت پہلے سے بھی کم ہو جائے گی۔
پاسدارانِ انقلاب کے کنٹرول مراکز تباہ، امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی و امریکی حملوں کے جواب میں ایران اسرائیل کے شہروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ آج صبح سویرے بحرین میں امریکی فضائی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش ہوئی ہے۔
امریکا کے سب سے بڑے ریڈار کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خلیج فارس میں ایران کے میزائل حملے کے نتیجے میں امریکا کے سب سے بڑے ریڈار کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکی ریڈار مشرق وسطیٰ کی مکمل نگرانی کے قابل تھا اور قبل از وقت وارننگ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ریڈار کی رینج تقریباً 5000 کلومیٹر تھی اور اس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
مؤثر ہتھیار ابتدائی مرحلے میں استعمال نہیں کریں گے: ترجمان ایرانی وزارت دفاع
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر رضا طلائی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکمتِ عملی کے تحت مؤثر ہتھیار ابتدا میں استعمال کرنا دانشمندانہ نہیں سمجھا جاتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ مخالف فریق کے اسلحہ ذخائر محدود ہیں اور اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں۔ ان کے بقول دشمن کو یہ غلط اندازہ تھا کہ رہبر کی شہادت کے بعد ایران کی عسکری طاقت کمزور ہو جائے گی۔
بریگیڈیئر رضا طلائی نے مزید کہاکہ ایران نے حملے کے پہلے ہی دن بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا، جس سے دشمن کو حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔
ایران میں شہید بچوں کی نماز جنازہ ادا، ملک میں سوگ کی فضا
ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں واقع ایک پرائمری اسکول پر حالیہ امریکی۔اسرائیلی جارحیت کے دوران ہونے والے مہلک حملے میں شہید ہونے والے درجنوں بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ غمزدہ خاندان اپنے پیاروں کو الوداع کہنے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔
منگل کی صبح سوگواروں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ وہ ننھے تابوت اور کمسن شہدا کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ مناب شہر میں واقع ’شجرہ طیبہ اسکول‘ پر ہونے والے اس ہولناک حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لیے شہر بھر میں آہ و بکا اور دعاؤں کی صدائیں گونجتی رہیں۔
یہ تقریب 3 روز قبل ہونے والے امریکی۔اسرائیلی حملے کے بعد منعقد ہوئی جس نے اسکول کی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ اس سانحے میں 165 بچے شہید اور تقریباً 100 زخمی ہوئے۔
حزب اللہ کا 2 اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں دو اسرائیلی مرکاوا ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔
حزب اللہ کے مطابق مزاحمت کاروں نے کفر شوبا اور کفر کلا کے علاقوں میں یہ کارروائیاں کیں، اور کفر کلا میں پہلے نشانہ بنائے گئے ٹینک کو نکالنے کے لیے آنے والے مزید دو اسرائیلی ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
آئی اے ای اے کی ایران کے نطنز افزودگی پلانٹ کے داخلی راستوں پر بمباری کی تصدیق
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے زیر زمین یورینیم افزودگی مرکز نطنز کے داخلی حصوں کو حالیہ امریکی اسرائیلی فوجی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کردی۔
مزید پڑھیں: ایران میں زلزے کے جھٹکے، فارس لرز اٹھا
زیر زمین فیول افزودگی پلانٹ ایران کے 3 معلوم یورینیم افزودگی مراکز میں سے ایک ہے جو اُس وقت فعال تھے جب اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
آئی اے ای اے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ تازہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر آئی اے ای اے اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے کہ ایران کے زیرِ زمین نطنز فیول افزودگی پلانٹ کے داخلی عمارتوں کو حالیہ دنوں میں نقصان پہنچا ہے۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے جوہری یا تابکاری اثرات کی توقع نہیں ہے اور خود فیول افزودگی پلانٹ کے اندرونی حصے پر کوئی نیا اثر نہیں پایا گیا کیونکہ وہ جون میں ہونے والے تنازع کے دوران پہلے ہی شدید نقصان کا شکار ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات
آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹٰی کے اس تجزیے سے مطابقت رکھتی ہے جو پیر کے روز جاری کیا گیا تھا۔
ایران نے اتوار کو نطنز پر حملے کی تصدیق کی تھی جس پر آئی اے ای اے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی حملے بڑے پیمانے کے نہیں تھے۔
مزید پڑھیں: آئی اے ای اے کی ایران کے نطنز افزودگی پلانٹ کے داخلی راستوں پر بمباری کی تصدیق
یاد رہے کہ نطنز ایران کے حساس ترین جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور ماضی میں بھی متعدد حملوں اور تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے کی مذمت
مملکتِ سعودی عرب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مملکت نے اس امر پر زور دیا کہ اس بزدلانہ اور بلاجواز حملے کی تکرار تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جن میں 1949 کے جنیوا کنونشنز اور 1961 کا ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات شامل ہیں، جو مسلح تصادم کے دوران بھی سفارتی عمارات اور عملے کو استثنا فراہم کرتے ہیں۔
مملکت نے خبردار کیا کہ ایرانی حکام کو اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اس طرح کے کھلے عام ایرانی طرزِ عمل کی تکرار خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
سعودی عرب نے اپنی سلامتی، علاقائی خودمختاری، شہریوں، مقیم افراد اور اہم مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے مکمل حق کا اعادہ کیا، جس میں جارحیت کا جواب دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔
ٹرمپ کی کارروائیاں تیسری جنگ عظیم کا آغاز کرسکتی ہیں، سابق روسی صدر
روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مختلف ممالک میں حکومتیں بدلنے کی کوششیں تیسری جنگ عظیم کا آغاز کر سکتی ہیں۔
میدویدیف کے مطابق ایران پر حملہ امریکی اور اتحادی طاقتوں کی عالمی تسلط کی کوشش کا حصہ ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے امریکی خود خطرے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری پروگرام کو تیز کرے گا اور اس میں کامیاب ہوگا کیونکہ امریکی اقدامات نے اسے سماجی استحکام فراہم کیا ہے۔ روس پر حملے کا امکان نہیں کیونکہ امریکہ ایٹمی جنگ کی قیمت جانتا ہے۔
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، ایرانی حکام
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اور رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر شفاف اور آئین ایران کے مطابق ہوگا۔
ایران کی خبر ایجنسی ایسنا کے مطابق ایران کی مجلس خبرگان کے ایک رکن نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل زیادہ طویل نہیں ہوگا اور جلد ہی اسی حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مجلس خبرگان کے رکن علی معلمی نے بیان میں کہا کہ ارکان مجلس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ نئے رہبر کے انتخاب میں کسی قسم کے ذاتی، سیاسی یا جماعتی رججانات کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ اور ایرانی صدر اس عبوری کونسل کے 3 اراکین میں شامل ہیں جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگان کے تمام اراکین نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ وہ اسلامی اصولوں، آئینی تقاضوں اور اپنی شرعی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے تاکہ رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر شفاف اور آئین ایران کے مطابق ہوگا۔
مجلس خبرگان آئینی طور پر ایران میں سپریم لیڈر کی مجاز اتھارٹی ہے۔ یہ مذہبی ماہرین پر مشتمل ایک بااختیار ادارہ ہے۔ علی معلمی نے کہا کہ جس طرح ماضی میں قیادت کا انتخاب کیا گیا تھا، اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا جو انقلاب کے بنیادی نظریات اور قومی مفادات کی پاسداری کرے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مجلس خبرگان پہلے بھی اہم مواقع پر متفقہ اور بروقت فیصلےکرتی رہی ہے، اس لیے اس بار بھی انتخابی عمل میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو قیادت کے حوالے سے کسی قسم کے خلا کا سامنا نہیں ہوگا اور ریاستی امور معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔
انہوں نے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجلس خبرگان اسی طرح ایک مضبوط اور باصلاحیت رہنما کا انتخاب کرے گی جیسا کہ ماضی میں کیا گیا تھا۔ واضع رہے کہ علی خامنی ای ہفتہ کی صبح امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد ملک میں سوگ کی فضا پائی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کےانتخاب کا عمل ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے، تاہم حکومتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آئینی طریقہ کار کے تحت تمام مراحل جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔
ایرانی حملے کے بعد ریاض میں قائم امریکی سفارت خانہ بند
ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے تمام ویزا خدمات، اپائٹمنٹس اور دیگر خدمات عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔
سفارت خانے نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے ‘شیلٹر اِن پلیس’ یعنی گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی۔ بیان کے مطابق منگل 3 مارچ کو امریکی مشن بند رہے گا اور تمام معمول کی اور ہنگامی امریکن سٹیزن سروسز اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔
مشن نے واضح کیا کہ جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے جاری گھروں میں رہنے کی ہدایت بدستور برقرار ہے اور مملکت میں موجود امریکی شہریوں کو بھی اسی پر عمل کی سفارش کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حملے کے باعث آئندہ اطلاع تک سفارت خانے سے گریز کیا جائے اور خطے میں فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر کو محدود رکھا جائے۔
امریکی مشن کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ شہریوں کو تازہ ترین سیکیورٹی الرٹس کا جائزہ لینے، ممکنہ خلل کے پیش نظر سفری منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنے اور ذاتی حفاظتی منصوبہ تیار رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں اندراج یا دوبارہ اندراج، درست پاسپورٹ کی دستیابی یقینی بنانے، اردگرد کے حالات سے باخبر رہنے اور بڑے اجتماعات و مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت میں معمولی آگ بھڑک اٹھی اور جزوی نقصان ہوا۔
کام کے مطابق حملے کے وقت سفارت خانہ خالی تھا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
شہریوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر اقوام متحدہ کو گہری تشویش
اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے ایران اور خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے بعد بچوں کے لیے ’سنگین خطرے‘ کی وارننگ جاری کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل برائے بچوں اور مسلح تنازعات کی خصوصی نمائندہ وینیسا فریزئیر اور بچوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ نجات معلا مْجد نے مشترکہ بیان میں کہا ’ہمیں شہریوں، بشمول شہری انفراسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں پر گہری تشویش ہے۔ اسکولوں اور اسپتالوں پر کسی بھی حال میں حملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ ضبط ضروری ہے، اور تمام فریقین کو ہر وقت بین الاقوامی انسانی حقوق اور ہنگامی قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنانی ہوگی۔
ایرانی حکام کے مطابق، مناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے میں کم از کم 165 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملک کے 9 اسپتالوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کنٹرول مراکز تباہ، امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق کارروائیوں میں فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور ایئرفیلڈز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کیا گیا، تاہم سینٹ کام نے اپنے مؤقف کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق فوری خطرات کے خلاف ہم فیصلہ کن اقدامات جاری رکھیں گے۔

حزب اللہ کا اسرائیل کے فضائی اڈے پر ڈرونز سے حملہ
لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں واقع رامات ڈیوڈ ایئر بیس پر حملہ کیا ہے۔
تنظیم کے بیان کے مطابق آج علی الصبح ڈرونز کے ایک جتھے کے ذریعے اڈے پر موجود ریڈار نظام اور کنٹرول رومز کو نشانہ بنایا گیا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں متعدد ڈرون استعمال کیے گئے۔
حزب اللہ نے کہا کہ یہ حملہ لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے مہلک حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
بحرین میں امریکی فضائی اڈے پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی بارش
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع امریکی فضائی اڈے پر بڑا حملہ کیا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق آج صبح بحرین کے شیخ عیسیٰ کے علاقے میں قائم امریکی ایئر بیس کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 20 ڈرون اور 3 میزائل استعمال کیے گئے۔
بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں امریکی فضائی اڈے کی مرکزی کمان اور ہیڈکوارٹر کی عمارت کو تباہ کر دیا گیا جبکہ ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔ تاہم اس واقعے پر بحرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
خلیج عمان میں موجود تمام ایرانی جہاز تباہ کردیے، امریکا کا دعویٰ
پیر کی رات امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں موجود تمام ایرانی جہاز تباہ کردیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق 2 روز قبل خلیج عمان میں ایرانی نیوی کے 11 جہاز موجود تھے، لیکن اب اس علاقے میں ان کی موجودگی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔
دوسری جانب لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی جنگ میں کود پڑی اور اس نے ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔
کسی جہاز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تو راکھ کردیں گے، پاسداران انقلاب
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی دعوے کے بعد وارننگ جاری کی ہے کہ یہ تجارتی گزرگاہ مکمل طور پر بند ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کسی بھی جہاز نے اس سے گزرنے کی کوشش کی تو اسے راکھ کر دیا جائے گا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب 11 ایرانی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد ایرانی حکام نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اپنی سرحدی حدود کی مکمل نگرانی کی یقین دہانی کرائی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیشگی کسی بھی آپشن کو خارج نہیں کریں گے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے صدور کی طرح پہلے ہی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ زمینی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔
ان کے بقول حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں اس کی ضرورت پیش نہ آئے، تاہم یہ امکان بھی موجود ہے کہ مستقبل میں یہ قدم ناگزیر بن جائے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکا کے اہداف واضح کیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے میزائل پروگرام کو غیر مؤثر بنانا، اس کی بحری قوت کو نقصان پہنچانا اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر مسلح گروہوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور تربیت فراہم کرنے سے باز رکھنا بھی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔
صدر کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام دراصل جوہری صلاحیت کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں تک رسائی مل گئی تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ امریکا کے لیے بھی سنگین خطرہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس پیش رفت کو روکنے کے لیے پرعزم تھا اور عالمی برادری کی حمایت بھی حاصل تھی۔
ٹرمپ نے مزید کہاکہ واشنگٹن نے پہلے سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن مذاکرات بارہا ناکام رہے۔ ان کے بقول اسی پس منظر میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ یہ اقدام خطرات کے خاتمے کا آخری موقع سمجھا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایران کے 10بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ صدر کے مطابق جاری عسکری آپریشن منصوبے سے تیز رفتار ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ کارروائی چار سے پانچ ہفتوں پر محیط ہونی تھی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے طول دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے سے 2018 میں علیحدگی کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدہ انتہائی ناقص اور خطرناک تھا اور اگر اسے برقرار رکھا جاتا تو ایران چند برس قبل ہی جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔ انہوں نے اس معاہدے کے خاتمے کو اپنی حکومت کا اہم اقدام قرار دیا۔
مشکل وقت میں ایران کے شانہ بشانہ ہیں، مولانا فضل الرحمان کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ
امیر جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی۔
مولانا فضل الرحمان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔
اس موقع پر انہوں نے ایران پر امریکی صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صیہونیت اور یورپ گٹھ جوڑ نے پہلے فلسطین پر قبضہ کیا اور اب بھی وہاں شدید تناؤ اور لمبی جنگ سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حماس کی مضبوط حمایت پر ایران کے خلاف جنگ کی دوسری قسط شروع کی گئی اور بیہودہ قسم کے الزامات لگا کر ان حملوں کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت صرف اپنا نہیں بلکہ فلسطین کا بھی دفاع کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو باہمی اتحاد کی ضرورت ہے اور مشکل وقت میں ایران کے شانہ بشانہ ہیں۔ امت مسلمہ باہم دست و گریباں ہونے کی بجائے صیہونیت کا مقابلہ کرے۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ انسانیت کا دشمن ہے، انسانی قتل اور مجرم کی سربراہی میں قیام امن کی کوششیں امن کے نام پر دھبہ ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی ٹرمپ جیسے قاتل سے امن کی امید رکھنا سوالیہ نشان ہے۔
اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاک ایران تعلقات پر مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فتح عالم اسلام کی ہوگی اور آپ کی آمد ہمارے لیے اطمینان کا باعث ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں