قومی پیغامِ امن کمیٹی نے بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے معتبر مذہبی اتفاقِ رائے، مؤثر حکمرانی اور پرتشدد انتہاپسندی کے جامع انسداد کو ناگزیر قرار دیدیا۔
کوئٹہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کمیٹی نے کہاکہ سیکیورٹی کامیابیوں کو دیرپا بنانے کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی، ہم آہنگ قومی بیانیے کی تشکیل اور انتہاپسندانہ بھرتی کی روک تھام بنیادی تقاضے ہیں۔
مزید پڑھیں: قومی پیغام امن کمیٹی کا جمعہ کو ’پیغام امن‘ کے طور پر منانے کا اعلان
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ حافظ طاہر اشرفی، مفتی عبد الرحیم سمیت تمام مکاتبِ فکر کے جید علما اور اقلیتی رہنما قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔
شرکا نے ریاستِ پاکستان، اس کے آئینی ڈھانچے اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ مذہب پر مبنی مثبت اور معتدل بیانیہ بلوچستان کی ثقافتی تنوع کا احترام کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ مذہبی و سماجی رہنما سیکیورٹی واقعات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کمیٹی نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فتنہ الخوارج کی کسی بھی شکل میں حمایت سے گریز کرے۔ تمام مکاتبِ فکر کے علما اس پلیٹ فارم پر یک آواز ہیں اور فتنہ الخوارج کے خلاف مسلح افواج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
شرکا نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر کسی بھی حملے کی مذمت کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں۔ کمیٹی نے فرنٹیئر کور، پاک فوج اور بلوچستان کے عوام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انتہاپسندوں اور دہشتگردوں کے خلاف ثابت قدم ہیں۔
شرکا کی جانب سے غزہ اور ایران کے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعادہ کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ریاست اور اس کے آئینی و قانونی فیصلوں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے رہیں گے۔
مزید پڑھیں: قومی بیانیے کا فروغ، قومی پیغام امن کمیٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی
کمیٹی نے مزید کہاکہ پاکستان کی اقلیتیں بھی دیگر تمام طبقات کے ساتھ قومی استحکام اور امن کے لیے متحد ہیں۔














