بھارتی شہر بنگلورو میں ایک 35 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق متوفیہ سشما ماضی میں معروف آئی ٹی کمپنی Dell میں ملازمت کر چکی تھیں۔
ان کی شادی 5 سال قبل پونیت کمار سے ہوئی تھی اور وہ 4 سالہ بیٹے کی ماں تھیں۔ شادی کے بعد وہ اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔
کھانا پکانے کے معاملے پر تنازع
اطلاعات کے مطابق گھر میں معمولی باتوں پر اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ گزشتہ روز ساس کے ساتھ کھانا پکانے کے معاملے پر شدید تلخ کلامی ہوئی۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ساس سشما کو ہراساں کرتی تھیں اور انہیں باورچی خانے میں کام کرنے سے روکتی تھیں۔ اسی معاملے پر ہونے والے حالیہ جھگڑے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
ذہنی دباؤ کی شکایات
قریبی ذرائع کے مطابق سشما کافی عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور متعدد بار اپنے قریبی رشتہ داروں سے گھریلو حالات کی شکایات کر چکی تھیں۔ دل برداشتہ ہو کر انہوں نے مبینہ طور پر پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
جہیز کے لیے ہراسانی کے الزام میں شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ساس کی تلاش جاری ہے۔ مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جن میں موبائل فون ریکارڈ، اہلِ خانہ کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گھریلو تنازعات کے سنگین نتائج
یہ واقعہ ایک بار پھر گھریلو تنازعات اور ذہنی دباؤ کے سنگین نتائج کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خاتون کی اچانک موت نے علاقے میں افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گھریلو مسائل کو نظرانداز کرنے کے بجائے بروقت مکالمہ، قانونی معاونت اور ذہنی صحت کی سہولیات سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔













