اسرائیل کے لبنان میں فضائی حملے، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے مراکز پر وسیع فضائی حملے کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں تنظیم کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے دوران حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی حکومت کے فیصلے کے تحت کی جا رہی ہیں اور انہیں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہدایت حاصل ہے۔

اسرائیل کاٹز کے مطابق انہوں نے اور وزیراعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کی جائے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ بیروت میں ایک اہم ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا کہا گیا۔

ادھر حزب اللہ نے نعیم قاسم سے متعلق اسرائیلی دعوے پر فوری طور پر کوئی تصدیق یا تردید جاری نہیں کی۔ تنظیم سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملے میں ان کے ایک اہم کمانڈر، 41 سالہ ادھم العثمان، اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔ تنظیم کے مطابق وہ لبنانی محاذ پر القدس بریگیڈز کے کمانڈر تھے۔

مزید پڑھیں: ایرانی حملے میں نیتن یاہوکی ہلاکت کی افواہیں، لوگ گروک سے کیا پوچھ رہے ہیں؟

اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے 70 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp