ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً بلوچستان کے مکران ڈویژن میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایک جانب حکومت ایران میں پھنسے پاکستانی شہریوں کو مرحلہ وار وطن واپس لا رہی ہے، تو دوسری جانب ایران سے ملحقہ علاقوں میں سرحدی بندش کے باعث معاشی اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پنجگور کے رہائشی برکت مری نے بتایا کہ ایران میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث پاک ایران سرحد عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟
ان کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 70 سے 80 روپے فی لیٹر تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ایرانی گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکران ڈویژن کے متعدد اضلاع کا روزگار اور معیشت بڑی حد تک ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے وابستہ ہے۔ سرحد بند ہونے کے باعث نہ صرف پیٹرول اور گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ ایران سے آنے والی سبزیاں، پھل اور دیگر اشیاء خورونوش کی ترسیل بھی رک گئی ہے، جس سے مقامی مارکیٹوں میں قلت اور مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
برکت مری کے مطابق سرحدی تجارت معطل ہونے سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں عوام کو مزید شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز کی بندش: تیل کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ، فی بیرل 100 ڈالر تک بڑھنے کا امکان
دوسری جانب گوادر کے رہائشی بہرام بلوچ نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گوادر میں صورتحال دیگر سرحدی علاقوں کی نسبت کم متاثر ہوئی ہے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان کے سرحدی اضلاع کی معیشت کا بڑا انحصار ایران کے ساتھ غیر رسمی اور سرحدی تجارت پر ہے۔ پیٹرول، گیس اور اشیائے خورونوش کی کم قیمت اور آسان دستیابی کے باعث مقامی آبادی کا روزمرہ نظام اسی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ ایرانی پیٹرول اور گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے مقامی سطح پر قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھ پڑھیے: کوئٹہ: رمضان المبارک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟
اس کے علاوہ سرحدی تجارت، ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے، جس سے بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازاں ایران سے آنے والی سبزیاں، پھل اور دیگر اشیاء کی سپلائی رکنے سے مقامی مارکیٹوں میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں کشیدگی اور سرحدی بندش طویل عرصے تک برقرار رہی تو بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں معاشی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ صوبے کی مجموعی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔














