قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم پر مبینہ جرمانے کے معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ناقابلِ فہم فیصلہ اور چھوٹی سوچ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 50 لاکھ روپے جرمانہ کوئی مؤثر اقدام نہیں بلکہ اصل ضرورت کارکردگی کی بنیاد پر سخت اور دیرپا فیصلوں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو کھلاڑی بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں انہیں قومی ٹیم سے نکال کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھیجا جانا چاہیے جبکہ بعض کھلاڑی ایسے بھی ہیں جو کم از کم 2 سال تک دوبارہ قومی ٹیم میں واپسی کے مستحق نہیں۔ شاہد آفریدی کے مطابق یہی سزائیں ٹیم میں بہتری کے لیے کافی ہوں گی۔
Shahid Afridi's reaction to PCB fining cricketers Rs 50 lakh each after T20 World Cup poor performance.
pic.twitter.com/PhDlOxJoi1— Moments & memories (@momentmemori) March 2, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اسکواڈ میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے جن کھلاڑیوں کو ریسٹ کی ضرورت ہے انہیں ریسٹ دیا جائے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جرمانے کی خبریں تو سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی سی بی نے حالیہ مایوس کن کارکردگی کے بعد قومی اسکواڈ کے ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکام نے ٹیم کو آگاہ کیا کہ اب ترجیحی سلوک ختم کر دیا گیا ہے اور مالی مراعات کا انحصار مکمل طور پر کارکردگی پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ سے اخراج مہنگا پڑگیا، پاکستانی کھلاڑیوں پر 50 لاکھ جرمانہ
مزید کہا گیا تھا کہ بھارت کے خلاف شکست کے فوراً بعد ہی کھلاڑیوں کو اس فیصلے سے مطلع کر دیا گیا تھا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ جس طرح عمدہ کارکردگی پر بونس دیا جاتا ہے، اسی طرح ناقص نتائج پر جوابدہی بھی لازم ہوگی۔
یاد رہے کہ قومی کرکٹرز اس وقت سالانہ کروڑوں روپے معاوضہ حاصل کر رہے ہیں، اے کیٹیگری کے کھلاڑی کو ماہانہ 45 لاکھ روپے تنخواہ کے علاوہ آئی سی سی ریونیو شیئر کی مد میں 20 لاکھ 70 ہزار روپے ملتے ہیں۔
اسی طرح بی کیٹیگری کے کھلاڑی کو ماہانہ 30 لاکھ روپے تنخواہ اور 15 لاکھ 52 ہزار روپے آئی سی سی شیئر کے طور پر ادا کیے جاتے ہیں۔














