’رمضان ٹرانسمیشن میں یہ کیا دیکھنا پڑ رہا ہے‘، خارش کے سوال پر جویریہ سعود کو ہنسنا مہنگا پڑ گیا

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف پاکستانی اداکارہ اور میزبان جویریہ سعود رمضان ٹرانسمیشن کے ایک وائرل کلپ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید کا نشانہ بن گئیں۔

کلپ میں ایک کالر نے میزبان سے کہا کہ خارش کی وجہ سے شادی نہیں ہو رہی کیونکہ جب بھی رشتہ دیکھنے آتا ہے وہ بے اختیار کھجانے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے رشتہ نہیں طے پا رہا۔ اس پر جویریہ سعود مسلسل ہنستی رہیں جس پر کئی صارفین نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

حسن علی نے کہا کہ یہ سب کیا دیکھنا پڑ رہا ہے؟

ایک صارف کا کہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ لوگ صحت کے سنجیدہ مسئلے بھی رمضان ٹرانسمیشن میں لا کر پوچھ رہے ہیں۔ اگر خارش یا کوئی میڈیکل مسئلہ ہے تو سیدھا ڈاکٹر کے پاس جائیں رمضان شو میں کیا تشخیص ہو گی؟ ان کا کہنا تھا کہ ٹی آر پی کے لیے جان بوجھ کر ایسے سوال آن ایئر کروائے جاتے ہیں۔

زاہدہ راؤ لکھتی ہیں کہ رمضان ٹرانسمیشن کا مقصد اب خارش کا علاج بتانا ہی رہ گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا رمضان ٹرانسمیشنز میں اب یہی رویہ معمول بن گیا ہے؟ اور کیا محض وائرل ہونے یا تنازع پیدا کرنے کے لیے یہ رویہ اپنایا جا رہا ہے؟ کئی صارفین نے تجویز دی کہ عوام کو ایسی رمضان ٹرانسمیشنز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تاکہ پروگرامز میں اخلاقیات اور سنجیدگی کو برقرار رکھا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈیجیٹل دنیا میں مسٹر بِیسٹ کا راج، 50 کروڑ سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور

اسرائیلی حملے کے باعث امریکا ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب اب کچھ گھنٹوں بعد ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان میں پہلی بار چینی ڈریگن بوٹ فیسٹیول، دریائے کابل پر پاک چین دوستی کا تاریخی جشن

مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ ٹرول اکاؤنٹس اشتعال پھیلا رہے ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر

میرے محکمے میں 20 ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی، بدعنوان عناصر کو سزا دلانا چاہتے ہیں، سعید غنی

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں