بھارت کی سپریم کورٹ نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ہونے والے طلبا احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے 18 سال سے کم عمر تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت نے متعدد ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا بھی عندیہ دیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے کریک ڈاؤن پر شدید تنقید کی ہے۔
مزید پڑھیں:محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی
ادھر دہلی پولیس نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹس پر مقدمہ درج کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) سے متعلقہ اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ احتجاجی رہنماؤں نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔
The attempt to harass and intimidate @aishe_ghosh is cowardly and reprehensible. We condemn in the strongest possible terms the attempts by Police forces across the country who are harassing student protesters.
Cockroaches will not die, we will be forced to swarm again in… https://t.co/nRjQmxeD7V
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) July 28, 2026
مزید پڑھیں:بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی
دوسری جانب سپریم کورٹ نے مظاہروں سے متعلق تمام ویڈیوز اور شواہد محفوظ رکھنے اور مظاہرین کا ذاتی ڈیٹا عام نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جبکہ حکومت نوجوانوں کو دوبارہ اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر نئی مہم چلا رہی ہے۔














