مملکتِ سعودی عرب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مملکت نے اس امر پر زور دیا کہ اس بزدلانہ اور بلاجواز حملے کی تکرار تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جن میں 1949 کے جنیوا کنونشنز اور 1961 کا ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات شامل ہیں، جو مسلح تصادم کے دوران بھی سفارتی عمارات اور عملے کو استثنا فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، قومی اتحاد کی ضرورت ہے، اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ
مملکت نے خبردار کیا کہ ایرانی حکام کو اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اس طرح کے کھلے عام ایرانی طرزِ عمل کی تکرار خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
سعودی عرب نے اپنی سلامتی، علاقائی خودمختاری، شہریوں، مقیم افراد اور اہم مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے مکمل حق کا اعادہ کیا، جس میں جارحیت کا جواب دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔














