پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، قومی اتحاد کی ضرورت ہے، اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے باعث صورتحال حساس ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ سعودی قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

اسحاق ڈار کے مطابق سفارتی رابطوں کے بعد سعودی عرب میں ڈرون حملوں کی شدت نسبتاً کم رہی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ چونکہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اس لیے اس بحران کے اثرات معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا، تنازع بات چیت سے حل ہو سکتا تھا: اسحاق ڈار

انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے اور عوام کو انتشار سے گریز کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق ایرانی حکام پاکستان کے مؤقف پر شکر گزار ہیں اور پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں فوری جنگ بندی ہو اور مسائل سفارتکاری کے ذریعے حل کیے جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ کا کرائسس آپریشنل گروپ مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور کل مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تمام پارلیمانی رہنماؤں کو بریفنگ دی جائے گی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اولین ترجیح خطے میں امن، انسانی جانوں کا تحفظ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، اور اسی مقصد کے لیے سفارتی کوششیں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان ایران کی موجودہ صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے، اسحاق ڈار

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے ایک طرف ایران پر حملے کی کھل کر مذمت کی ہے تو دوسری جانب خطے میں موجود اپنے لاکھوں شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت مخدوش ہے، پاکستان براہِ راست اثرات کی زد میں آ سکتا ہے۔

’اس لیے حکومت سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں اور زمینی سطح پر شہریوں کی حفاظت دونوں محاذوں پر متحرک ہے۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس وقت خطے میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہیں اور صرف عمان اور سعودی عرب کی فضائی حدود کھلی ہیں جبکہ دیگر بیشتر ممالک کی ائیر اسپیس بند ہے۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، تہران پر حملوں کی مذمت، کشیدگی روکنے پر زور

سعودی عرب سے قومی ائیرلائن کی پروازیں عمان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے پاکستان آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایران اور مختلف خلیجی ممالک میں رکے ہوئے پاکستانیوں کے بارے میں مسلسل سوالات موصول ہو رہے ہیں، اسی لیے اسلام آباد سمیت بیرونِ ملک پاکستانی مشنز میں سہولت مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔

وزیر خارجہ کے مطابق ایران میں اس وقت تقریباً 35 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔ تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی مراکز فعال ہیں اور ان کے رابطہ نمبرز دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تفتان بارڈر اور آذربائیجان کے راستے شہریوں کی واپسی جاری ہے اور اب تک 792 پاکستانی ایران سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ 64 پاکستانی آذربائیجان منتقل ہوئے ہیں جہاں آن ارائیول ویزے کی سہولت دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ کا مقصد اسرائیل کا اثر و رسوخ پاکستانی سرحد  تک لانا ہے، خواجہ آصف

اس اقدام پر انہوں نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی 300 سے زائد ایرانی شہری بھی ویزا کے ساتھ پاکستان پہنچے ہیں۔

خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 21 لاکھ پاکستانی آباد ہیں جبکہ ساڑھے 4 ہزار سے زائد سیاحتی ویزے پر موجود ہیں۔

ابو ظہبی میں ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اماراتی حکومت مکمل تعاون کر رہی ہے اور محدود پروازوں کے ذریعے بعض غیر ملکیوں کا انخلا بھی کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاک ایران 3 اہم معاہدے طے، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا، اسحاق ڈار

قطر میں ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جن میں 1400 سیاحتی ویزے پر ہیں اور قطری حکومت مکمل مدد فراہم کر رہی ہے۔

عراق میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں 300 کے قریب زائرین ویزے پر ہیں جبکہ کچھ شہری کردستان میں بھی موجود ہیں۔

سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی آباد ہیں اور وہاں صورتحال مستحکم ہے۔ کویت میں ایک لاکھ سے زائد، عمان میں 3 لاکھ 82 ہزار، بحرین میں ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد جبکہ اردن میں تقریباً 18 ہزار پاکستانی مقیم ہیں اور کسی بڑے پیمانے پر شہریوں کے پھنسنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے اور مسلم ممالک میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کشیدگی کے اثرات بلوچستان تک پہنچ گئے، ایندھن سمیت اشیا خورونوش کی قلت کا خدشہ

انہوں نے بتایا کہ جونہی حملہ ہوا انہوں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور گزشتہ 3 دنوں میں فلسطین، ایران، سعودی عرب، بنگلہ دیش، مالدیپ، عمان، متحدہ عرب امارات، عراق، بحرین اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مختلف سربراہانِ مملکت سے رابطے کیے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور ردعمل سے گریز کرے تاکہ جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہنگامی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی جاری، ویڈیو لنک کے ذریعے 20 مقدمات نمٹا دیے گئے

’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق تاخیر کا شکار، وجہ کیا ہے؟

سونا سستا ہوگیا، پاکستان میں فی تولہ قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟

جاپان کی پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے نئی کاوشیں، 4 لاکھ ڈالر فراہم کردیے

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟