ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں واقع ایک پرائمری اسکول پر حالیہ امریکی۔اسرائیلی جارحیت کے دوران ہونے والے مہلک حملے میں شہید ہونے والے درجنوں بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ غمزدہ خاندان اپنے پیاروں کو الوداع کہنے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، قومی اتحاد کی ضرورت ہے، اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ
منگل کی صبح سوگواروں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ وہ ننھے تابوت اور کمسن شہدا کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ مناب شہر میں واقع ’شجرہ طیبہ اسکول‘ پر ہونے والے اس ہولناک حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لیے شہر بھر میں آہ و بکا اور دعاؤں کی صدائیں گونجتی رہیں۔
یہ تقریب 3 روز قبل ہونے والے امریکی۔اسرائیلی حملے کے بعد منعقد ہوئی جس نے اسکول کی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ اس سانحے میں 165 بچے شہید اور تقریباً 100 زخمی ہوئے۔
سانحے کے بعد مناب کے پراسیکیوٹر نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے حملے کو مجرمانہ اور وحشیانہ قرار دیا۔ ان کے مطابق شہدا میں تعلیمی عملے کے ارکان اور بعض طلبہ کے والدین بھی شامل ہیں۔
2 منزلہ مکمل طور پر شہری عمارت کی نچلی منزل پر لڑکوں کا اسکول جبکہ پہلی منزل پر لڑکیوں کا اسکول قائم تھا۔
#BREAKING
Funeral of martyrs of US and Zionist regime's terrorist attack on Minab Elementary School. pic.twitter.com/vz1MEH2EF9— Tehran Times (@TehranTimes79) March 3, 2026
صوبہ ہرمزگان کے چیف جسٹس مجتبی قہرمانی نے منگل کو بتایا کہ اب تک اسکول کے 140 شہدا کی لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کی تدفین کے اجازت نامے جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ 25 لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیے: امریکا اور اسرائیل کی جارحیت، چین کا ایران کی خود مختاری کے احترام پر زور
انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کی شدت کے باعث بعض لاشیں روایتی طریقوں سے قابلِ شناخت نہیں رہیں، جن کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق جائے وقوعہ سے دشمن کے استعمال شدہ اسلحے کے باقیات بھی برآمد کر لیے گئے ہیں اور اس جرم کے خلاف ملکی و بین الاقوامی عدالتی فورمز پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
حملے کے فوری بعد تباہ شدہ عمارت سے دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے اور ملبہ قریبی سڑکوں تک پھیل گیا۔ پریشان حال خاندان موقع پر پہنچ گئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس دل خراش سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غدارانہ حملے نے تمام ایرانیوں اور آزاد انسانوں کے دلوں کو غمگین کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر انسانی اور وحشیانہ اقدام جارح قوتوں کے جرائم کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا ایک اور سیاہ باب ہے جو ہماری قوم کی تاریخی یادداشت سے کبھی محو نہیں ہوگا۔
ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کے مطابق ہفتے سے شروع ہونے والی جارحیت کے دوران اب تک مجموعی طور پر 550 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔














