اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے زیر زمین یورینیم افزودگی مرکز نطنز کے داخلی حصوں کو حالیہ امریکی اسرائیلی فوجی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں 165 ننھے شہیدوں کی نماز جنازہ، ہر سو سوگ کی فضا
زیر زمین فیول افزودگی پلانٹ ایران کے 3 معلوم یورینیم افزودگی مراکز میں سے ایک ہے جو اُس وقت فعال تھے جب اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
آئی اے ای اے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ تازہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر آئی اے ای اے اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے کہ ایران کے زیرِ زمین نطنز فیول افزودگی پلانٹ کے داخلی عمارتوں کو حالیہ دنوں میں نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے کی مذمت
ادارے نے مزید واضح کیا کہ اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے جوہری یا تابکاری اثرات کی توقع نہیں ہے اور خود فیول افزودگی پلانٹ کے اندرونی حصے پر کوئی نیا اثر نہیں پایا گیا کیونکہ وہ جون میں ہونے والے تنازع کے دوران پہلے ہی شدید نقصان کا شکار ہو چکا تھا۔
آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹٰی کے اس تجزیے سے مطابقت رکھتی ہے جو پیر کے روز جاری کیا گیا تھا۔
ایران نے اتوار کو نطنز پر حملے کی تصدیق کی تھی جس پر آئی اے ای اے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی حملے بڑے پیمانے کے نہیں تھے۔
مزید پڑھیں: ایران پر حملے کے بعد پاکستانی ایئرپورٹس پر کتنے جہاز پھنس گئے؟
یاد رہے کہ نطنز ایران کے حساس ترین جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور ماضی میں بھی متعدد حملوں اور تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔

















