ایران کے جنوبی صوبے فارس میں منگل کے روز 4.3 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا جس کا مرکز گراش شہر کے قریب تھا۔ یہ جھٹکا ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
کم گہرائی کا زلزلہ، جانی نقصان نہیں
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10:24 بجے آیا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جو نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مرکز گراش سے تقریباً 55 کلومیٹر شمال۔شمال مغرب میں ایک دیہی علاقے میں واقع تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی اے ای اے کی ایران کے نطنز افزودگی پلانٹ کے داخلی راستوں پر بمباری کی تصدیق
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان یا سونامی کے خطرے کی اطلاع نہیں ملی تاہم اس کے وقت اور علاقائی حالات کے باعث اسے غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی
یہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں ایرانی اہداف پر فضائی اور میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
زاگرس پہاڑی سلسلہ: زلزلہ خیز خطہ
جنوبی ایران زاگرس کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جو ارضیاتی طور پر ایک متحرک اور زلزلہ خیز پٹی سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق 4.3 شدت کا زلزلہ عموماً ہلکا تصور کیا جاتا ہے جسے لوگ محسوس تو کرتے ہیں مگر اس سے بڑے پیمانے پر تباہی کا امکان کم ہوتا ہے۔
نگرانی اور حفاظتی اقدامات
زلزلہ پیما ادارے اور مقامی حکام گراش اور گرد و نواح کی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران میں 165 ننھے شہیدوں کی نماز جنازہ، ہر سو سوگ کی فضا
شہریوں کو ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر محتاط رہنے اور سول پروٹیکشن اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ تاحال کسی بڑے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔














