ایران کے خلاف جاری اسرائیل۔امریکا جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی سیاحت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور اندازہ ہے کہ خطہ اس سال سیاحتی آمدنی میں 60 ارب ڈالر تک کا نقصان اٹھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائل حملہ، وسطی اسرائیل میں 7 افراد زخمی
تازہ تخمینوں کے مطابق اگر تنازع جاری رہا تو سنہ 2026 میں خطے میں بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں 11 سے 27 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ اعداد و شمار عالمی تحقیقی ادارے ٹورازم اکنامکس کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: ایران میں زلزے کے جھٹکے، فارس لرز اٹھا
رپورٹ کے مطابق یہ پیشگوئی گزشتہ دسمبر کے اندازوں کے بالکل برعکس ہے جب اسی ادارے نے رواں سال سیاحوں کی تعداد میں 13 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔
کروڑوں سیاح کم آنے کا امکان
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر زیادہ کمی والا تخمینہ درست ثابت ہوا تو خطہ اپنی سابقہ توقعات کے مقابلے میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے 3 کروڑ 80 لاکھ تک بین الاقوامی سیاحوں سے محروم ہو سکتا ہے۔
اربوں ڈالر کی آمدنی خطرے میں
سیاحوں کی کم آمد کے باعث مالی اثرات بھی سنگین ہوں گے۔ اندازے کے مطابق سیاحتی اخراجات میں 34 ارب ڈالر سے لے کر 56 ارب ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے، جو خطے کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوگی۔
مزید پڑھیں: آئی اے ای اے کی ایران کے نطنز افزودگی پلانٹ کے داخلی راستوں پر بمباری کی تصدیق
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی، فضائی حدود کی بندش، سفری انتباہات اور سیکیورٹی خدشات سیاحت کے شعبے پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔














