دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹس میں ایران میں جاری جنگ کے اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتیں بلند ہونے سے اسٹاک مارکیٹس گِر گئیں اور ڈالر کی قدر بڑھ گئی، جس سے مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2024 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز تیزی سے بڑھیں، کیونکہ جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے توانائی کی برآمد متاثر ہوئی، خاص طور پر خلیج ہرمز، جہاں دنیا کے تیل کا تقریباً 20 فیصد گزر کرجاتا ہے، تقریباً بند ہو گی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ
توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے سبب سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مرکزی بینک سود کی شرح کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا سکتے ہیں، جبکہ کاروباری اخراجات اور صارفین کی کم خریداری کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ نیویارک میں وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکسز مندی کا شکار ہوئے، نَس ڈیک کمپوزٹ 2 فیصد گر گیا، جبکہ یورپی مارکیٹس میں نقصان 3 فیصد یا زیادہ رہا۔
اس دوران مشرق وسطیٰ میں نئے فضائی اور ڈرون حملے رپورٹ ہوئے، جن میں لبنان پر اسرائیلی بمباری اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ شامل ہے۔ ایران نے سعودی عرب، قطر اور دبئی پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور خلیج ہرمز سے تیل کے عالمی بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش: تیل کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ، فی بیرل 100 ڈالر تک بڑھنے کا امکان
یورپی گیس کنٹریکٹ TTF کی قیمت 60 یورو سے بڑھ گئی، جو جنوری 2023 کے بعد سب سے بلند سطح ہے، جبکہ قطر میں ایل این جی کی پیداوار میں تعطل کے بعد پیر کو قیمتیں 50 فیصد بڑھ چکی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں مرکزی بینکوں کے لیے دقت پیدا کرتی ہیں کیونکہ مہنگائی کم کرنے اور معیشت کی حمایت کے لیے شرح سود کم کرنے کے اہداف ایک ساتھ مشکل ہوجاتے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاری میں عدم استحکام کے دوران ڈالر کو محفوظ پناہ سمجھا گیا، جس کی قدر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں بڑھی۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی رہی، سئول سات فیصد سے زائد گرا، جبکہ ٹوکیو، ہانگ کانگ، شنگھائی اور دیگر مارکیٹس بھی کمزور رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ بندی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
اس بحران کے باعث سرمایہ کار، حکومتیں اور مرکزی بینک توانائی کی سپلائی، مہنگائی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے انتباہی انداز میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔














