بلوچستان میں جاری بدامنی صرف اقتصادی مسائل کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ سب نظریاتی انتشار کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ بعض علاقوں میں شرح خواندگی کم اور نوجوانوں میں بے روزگاری 25 فیصد سے بھی زیادہ ہے، لیکن برسوں پر محیط علیحدگی پسندانہ پروپیگنڈا جس میں پاکستان کو قبضہ آور کے طور پر پیش کیا گیا، عوام میں عدم اعتماد کو بڑھا چکا ہے اور نوجوانوں کو عسکری گروپوں میں شامل ہونے پر آمادہ کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ محرومی نہیں، مصالحتی پالیسی کی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہوا، سرفراز بگٹی
تاریخی طور پر بلوچستان کے قریباً 77 فیصد علاقے نے پاکستان کے ساتھ رضاکارانہ الحاق کیا، اور صرف قلات نے ابتدا میں مخالفت کی تھی، تاہم بعد میں معاملہ حل ہوگیا، لیکن دہائیوں پر محیط پروپیگنڈے نے اس اصل تناظر کو نظر انداز کر دیا ہے۔
ریاست نے اسکولوں، پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں اور سی پیک سے منسلک ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دی ہے، اور 30 ہزار سے زیادہ نوجوان ان پروگراموں سے مستفید ہو رہے ہیں، لیکن صرف اقتصادی اقدامات کسی بھی طرح اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔
استحکام کے لیے ترقیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک کمیونیکیشن، عوامی شمولیت اور شفاف حکمرانی کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معلوماتی مہمات، تاریخی تعلیم اور کمیونٹی ڈائیلاگ دہائیوں پر محیط علیحدگی پسندانہ پروپیگنڈا کو پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
سیکیورٹی اقدامات کو اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے، کیونکہ قانونی جواز کی صورت اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ علاقائی کنٹرول۔
ماہرین کے مطابق حکومت کی واضح جواب دہی اور شمولیتی حکمرانی عوام کا اعتماد بڑھاتی ہے، باغیوں کی کشش کم کرتی ہے اور مقامی نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ میں بلوچستان کا بڑا حصہ، صوبے کے عوام کی احساس محرومی دور ہوسکے گی؟
بلوچستان میں چیلنج کی نوعیت علمی، سماجی اور اقتصادی ہے، اور ماہرین کے مطابق صرف جامع، ریاستی حکمت عملی ہی عدم اعتماد اور عسکریت کے دائرے کو توڑ سکتی ہے اور خطے میں پائیدار امن قائم کر سکتی ہے۔














