وفاقی بجٹ میں بلوچستان کا بڑا حصہ، صوبے کے عوام کی احساس محرومی دور ہوسکے گی؟

جمعرات 12 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت پاکستان نے مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے مجموعی طور پر قریباً 769.7 ارب روپے مختص کر دیے ہیں، جس میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت حصہ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے علیحدہ فنڈز شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے مختص 57.5 فیصد مالیاتی حصے میں سے 9.09 فیصد حصہ دیا گیا ہے، جو مالی سال 26-2025 کے لیے قریباً 743 ارب روپے بنتا ہے۔ اس کے علاوہ وفاق نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 26.73 ارب روپے کا اضافی بجٹ بھی مختص کیا ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

تاجر برادری نے بجٹ کو عوام دوست قرار دے دیا

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایوب مریانی نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ خوش آئند عمل ہیں اور بلوچستان کی خونی چمن کراچی شاہراہ کے لیے ایک سو ارب مختص کرنے پر وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وفاقی کو بلوچستان میں ایران اور افغانستان سے زمینی ٹریڈ پر ویلیویشن ٹیکس کو 15 فیصد کرنے پر غور کریں کیونکہ بلوچستان میں پہلی سے ہی بارڈر ٹریڈ غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہے۔

مزید پڑھیں: بجٹ میں جی ڈی پی کے نمبرز ٹھیک نہیں، اس پر سوال اٹھیں گے، مفتاح اسماعیل

سنئیر نائب صدر ایوان صنعت و تجارت اختر کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیموں کے لیے جو فنڈز مختص کیے ہیں وہ انتہائی کم ہیں کیونکہ بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح دن بدن نیچے ہوتی جا رہی ہے، بلوچستان میں دانش اسکولوں کا قیام خوش آئند عمل ہیں مگر ان کی تعداد کم ہے کیونکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا آدھا ہے۔

دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ہر بار وفاق کی جانب سے بلوچستان کے لیے اضافی رقم رکھی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ رقم کاغذوں کی حد تک ہی محدود رہ جاتی ہے وفاق کی جانب سے فنڈز کی بر وقت فراہمی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے قومی سطح کے ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار رہتے ہیں ایسے میں یہ بجٹ لیپس ہو جاتا ہے اور یوں عوامی نوعیت کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

ماضی میں بھی وفاقی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان کو زیادہ حصہ دینے کی بات کی جاتی ہے اور بجٹ میں اس حوالے سے بلند وبانگ اعلانات اور دعوے کیے جاتے ہیں لیکن رقم کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے تاہم وفاقی حکومت کو چاہیے کہ منظور شدہ فنڈز کو صبح تک بروقت پہنچایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کوم پائے تکمیل تک پہنچایا جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟