امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے بعد عالمی کھیلوں کے مقابلوں پر بھی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ ورلڈ کپ سمیت کئی بڑے ایونٹس کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق فضائی حدود کی بندش، سفری پابندیوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث متعدد کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور منتظمین کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ مقابلے شیڈول کے مطابق ہوں گے یا انہیں منتقل یا منسوخ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کی ٹیمیں بھارت سے واپس نہ جا سکیں
27 مارچ کو قطر میں شیڈول اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان فائنالیسیما فٹبال میچ کے انعقاد پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اسی طرح پرتگالی اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کے کلب النصر کو بھی منسوخیوں کی لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فارمولا 1 کی اگلے ماہ بحرین اور سعودی عرب میں ہونے والی ریسز بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں کیونکہ ٹیمیں عام طور پر ہفتوں پہلے عملہ اور سامان روانہ کرتی ہیں۔ عالمی موٹر اسپورٹس ادارے ایف آئی اے نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو آئندہ ورلڈ کپ کے لیے امریکا جانا ہے، تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث اس بات پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا ایران ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکے گا یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: فاتح ٹیم کی انعامی رقم میں 50 فیصد اضافہ، کتنے ملین ڈالر ملیں گے؟
اٹلی میں شروع ہونے والے سرمائی پیرا لمپکس میں شرکت کرنے والے بعض ایتھلیٹس کو بھی سفری مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئی ٹیمیں پہلے ہی یورپ پہنچ چکی ہیں۔
اگر ایران ورلڈ کپ سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کی فٹبال فیڈریشن کو کم از کم 10.5 ملین ڈالر کی آمدن سے محروم ہونا پڑے گا۔ قوانین کے تحت ٹورنامنٹ سے دستبرداری پر بھاری جرمانے بھی عائد ہوسکتے ہیں اور آئندہ 2030 ورلڈ کپ کی کوالیفائنگ سے بھی خارج کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
ممکنہ طور پر ایران کی جگہ ایشیا سے عراق یا متحدہ عرب امارات کو موقع دیا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ عالمی فٹبال تنظیم فیفا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ کا دھماکے دار آغاز کب اور کن ٹیموں کے درمیان ہوگا؟ تاریخوں کا اعلان ہوگیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست کے اثرات کھیلوں کی دنیا تک بھی پہنچتے ہیں اور بڑے اسپورٹس ایونٹس بھی جغرافیائی کشیدگی سے محفوظ نہیں رہتے۔














