برطانیہ نے افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کے لیے اسٹڈی ویزے بند کرنے جبکہ افغان شہریوں کے لیے ورک ویزوں کے اجرا پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے امیگریشن مخالف رجحانات اور پناہ کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافے کے تناظر میں ویزا نظام کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ ’ہنگامی بریک‘ پہلی بار استعمال کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ: برطانیہ نے مشرق وسطیٰ سے ہزاروں شہریوں کے انخلا کی تیاری شروع کردی
برطانوی وزارت داخلہ یعنی ہوم آفس نے ایک بیان میں کہا کہ اسٹڈی ویزوں پر آنے والے طلبا کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کے بعد 4 ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔
🇬🇧 BREAKING: Mahmood suspends student visas from Afghanistan, Cameroon, Sudan, and Myanmar to "halt asylum system exploitation".
Pakistan, the country of her ethnic origin, the largest source of refugees, and visa-to-asylum ratio (89%), was absent from the list. https://t.co/NdbpXJC8Kl pic.twitter.com/6elSt5w9dE
— VoxPopuli (@vpopulimedia) March 3, 2026
وزارت کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے طلبا کی پناہ درخواستوں میں 470 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے داخلہ امور شبانہ محمود نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ جنگ اور ظلم و ستم سے بھاگنے والوں کو پناہ دیتا رہے گا، تاہم ویزا نظام کا غلط استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی شہری اب برطانیہ کے لیے ڈیجیٹل ویزا حاصل کرسکیں گے
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی سخاوت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں کے ویزے مسترد کرنے کا یہ غیر معمولی فیصلہ اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں امیگریشن ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جہاں سخت گیر مؤقف رکھنے والی جماعت وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ دائیں بازو کی جماعت ریفارم یوکے امیگریشن مخالف بیانیے کے باعث رائے عامہ کے جائزوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔

عوامی دباؤ کم کرنے اور ریفارم یو کے کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لیے حکومت پہلے ہی پناہ کے عمل کو سخت اور غیر قانونی طور پر آنے والوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرچکی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن کے مطابق ویزا پابندی کا باقاعدہ اطلاق جمعرات کو امیگریشن قوانین میں ترمیم کے ذریعے کیا جائے گا، اسی روز شابانہ محمود ایک تقریر میں مزید سخت پناہ پالیسی کا خاکہ پیش کریں گی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق وزیر کی برطانیہ میں موجود جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
رپورٹ کے مطابق حکومت پہلے ہی عندیہ دے چکی ہے کہ نئے قواعد کے تحت برطانیہ میں موجود پناہ گزینوں کی پناہ گزین حیثیت کا ہر 30 ماہ بعد ازسرنو جائزہ لیا جائے گا، جس کا مقصد ملک کو پناہ کے خواہشمند افراد کے لیے کم پرکشش بنانا ہے۔
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2025 کے دوران طلبا کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں 20 فیصد کمی لائی گئی ہے، تاہم اسٹڈی ویزے پر آنے والے افراد اب بھی پناہ کی مجموعی درخواستوں کا 13 فیصد حصہ بنتے ہیں، اس لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔














