بنگلہ دیش: سابق وزیر کی برطانیہ میں موجود جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈھاکہ کی ایک عدالت نے سابق وزیر برائے لینڈ سیف الزمان چودھری جاوید کی برطانیہ میں موجود 518 جائیدادوں کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جو بدعنوانی کے الزامات کے بعد آیا، ان جائیدادوں کی مجموعی قیمت کا تخمینہ  تقریباً  271.85 ملین پاؤنڈ لگائی گئی ہے۔

ڈھاکا کے سینیئر اسپیشل جج صبیب فیاض نے یہ حکم اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں جاری کیا، جس کی تصدیق عدالت کے معاون ریاض حسین نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائشگاہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا

اے سی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد مشیع الرحمان نے غیر ملکی اثاثے ضبط کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

درخواست کے مطابق، اے سی سی, کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) اور نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) کے حکام پر مشتمل 9 رکنی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی تاکہ جاوید اور ان کے معاونین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کی جا سکیں۔

گزشتہ سال 21 ستمبر کو چٹگانگ میں ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا اور 23 تھیلوں میں دستاویزی شواہد برآمد کیے گئے، جن میں معاہدے، ڈیدز، پیمنٹ آرڈرز، چیکس، واؤچرز اور بیرون ملک جائیداد کی خریداری سے متعلق اصل دستاویزات شامل تھیں۔ یہ مواد بعد میں تفصیلی جائزے کے لیے ڈھاکا منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیولپ صدیق کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس، بنگلہ دیشی عدالت کی منظوری

تحقیقات کے دوران مختلف ممالک بشمول برطانیہ میں حاصل کی گئی جائیدادوں کی فہرست مرتب کی گئی، جس پر عدالت نے انہیں ضبط کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ کسی بھی قسم کی منتقلی یا فروخت سے بچا جاسکے۔

جاوید 2014 سے 2018 تک وزیر مملکت برائے لینڈ اور 2019 سے 2023 تک وزیر برائے لینڈ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان پر غیر ملکی اثاثوں کے الزامات 2024 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا