ڈھاکہ کی ایک عدالت نے سابق وزیر برائے لینڈ سیف الزمان چودھری جاوید کی برطانیہ میں موجود 518 جائیدادوں کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جو بدعنوانی کے الزامات کے بعد آیا، ان جائیدادوں کی مجموعی قیمت کا تخمینہ تقریباً 271.85 ملین پاؤنڈ لگائی گئی ہے۔
ڈھاکا کے سینیئر اسپیشل جج صبیب فیاض نے یہ حکم اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں جاری کیا، جس کی تصدیق عدالت کے معاون ریاض حسین نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائشگاہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا
اے سی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد مشیع الرحمان نے غیر ملکی اثاثے ضبط کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
درخواست کے مطابق، اے سی سی, کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) اور نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) کے حکام پر مشتمل 9 رکنی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی تاکہ جاوید اور ان کے معاونین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کی جا سکیں۔
گزشتہ سال 21 ستمبر کو چٹگانگ میں ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا اور 23 تھیلوں میں دستاویزی شواہد برآمد کیے گئے، جن میں معاہدے، ڈیدز، پیمنٹ آرڈرز، چیکس، واؤچرز اور بیرون ملک جائیداد کی خریداری سے متعلق اصل دستاویزات شامل تھیں۔ یہ مواد بعد میں تفصیلی جائزے کے لیے ڈھاکا منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیولپ صدیق کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس، بنگلہ دیشی عدالت کی منظوری
تحقیقات کے دوران مختلف ممالک بشمول برطانیہ میں حاصل کی گئی جائیدادوں کی فہرست مرتب کی گئی، جس پر عدالت نے انہیں ضبط کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ کسی بھی قسم کی منتقلی یا فروخت سے بچا جاسکے۔
جاوید 2014 سے 2018 تک وزیر مملکت برائے لینڈ اور 2019 سے 2023 تک وزیر برائے لینڈ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان پر غیر ملکی اثاثوں کے الزامات 2024 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آئے تھے۔














