بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ایران پر ممکنہ حملے سے عین قبل اسرائیل کا دورہ عالمی سطح پر شدید تنقید اور سیاسی سوالات کھڑے کر گیا ہے۔ عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن نے دورے کی ٹائمنگ کو مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ بول دیا، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا
میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی نے دورہ اسرائیل میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایران کے خلاف ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں، جس سے بھارت کی جغرافیائی اہمیت اور امریکا ایران کشیدگی میں کردار اجاگر ہوتا ہے۔
اسرائیلی صحافی نے مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا ’سستا اشتہار‘ قرار دیا جبکہ دی وائر کے مطابق مودی کا اصل مقصد نیتن یاہو کے ذریعے سابق امریکی صدر ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی حاصل کرنا تھا۔
بلوم برگ کے مطابق مودی کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا میڈل محض نمائشی تھا اور مڈل ایسٹ میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اسرائیلی حکومت کے سیاسی مفاد میں سہارا بنا۔
الجزیرہ نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے لیے ہر ممکن امداد فراہم کی، جبکہ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق مودی ایران کے معاملے پر اپنے سیاسی مفاد کے باعث خاموش رہے۔
ماہرین کے مطابق مودی کا یہ دورہ ایران کے حوالے سے متنازع اور بین الاقوامی سفارتی نقطۂ نظر سے خطرناک اقدام ہے، جس نے بھارت کی خارجہ پالیسی اور عالمی تاثر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔














