امر اللہ صالح سابق افغان نائب صدر ہیں اور پاکستان کی مخالفت کرنے کے لیے مشہور ہیں۔2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد امر اللہ صالح خود کو 2004 کے افغان آئین کے مطابق نگران صدر کے عہدے پر فائز کر چکے ہیں۔ یہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس کے سربراہ رہے ہیں۔ این ڈی ایس کا نام بدل کر اب جی ڈی آئی کر دیا گیا ہے۔ امر اللہ صالح نے 2010 میں بسیج ملی قائم کی تھی۔ یہ افغان گرین ٹرینڈ یا اے جی ٹی بھی کہلاتی ہے۔ یہ تنظیم اب طالبان مخالف نیشنل رزسٹنس فرنٹ کا حصہ ہے۔ اے جی ٹی کے ایکس اکاؤنٹ سے پاکستان کی نئی افغان اسٹریٹجی کا 5 نکاتی جائزہ لیا گیا ہے۔
اس جائزے کو امر اللہ صالح نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا ہے۔ پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان نے ٹریڈ اور معیشت کو سیکیورٹی کے ساتھ لنک کر دیا ہے۔ اپنے سیکیورٹی تحفظات حل کرنے کے لیے پاکستان اپنی معاشی قربانی دینے کو تیار ہے۔ دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی ایئر اسپیس پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اپنے مرضی کے ٹارگٹ کو ہٹ کر رہا ہے۔ پاکستان کی اس برتری نے افغان طالبان کو کسی حکومت سے زیادہ ٹیررسٹ ملیشیا بنا کر دکھا دیا ہے۔
پاکستان نے افغانستان پالیسی پر اپنے نظام کے اندر تمام اسٹیک ہولڈر کو آن بورڈ لے لیا ہے۔ صرف وہ سرکل اس اتفاق رائے سے باہر رہ گئے ہیں جو ویسے ہی باہر ہیں اور پاکستانی آئین کی مخالفت کرنے کے لیے ہی جانے جاتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر اور اپوزیشن لیڈر کو ان کیمرہ بریفنگ کی دعوت بھی ایک طرح سے اس پوائنٹ پر مہر لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا دوسرا اینگل یہ بھی ہے کہ افغان طالبان اس وقت ان پاکستانی شخصیات سے رابطے کر رہے ہیں جو کوئی بریک تھرو کرا سکیں یا جن کی بات سنی جاتی ہے۔
جائزے کا چوتھا پوائنٹ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کی افغانستان پالیسی کو عالمی حمایت مل رہی ہے۔ یہ حمایت کاؤنٹر ٹیرر ازم کے خلاف عالمی مہم کی وجہ سے حاصل ہو رہی ہے لیکن اس نے اینٹی طالبان صورت اختیار کر لی ہے۔
آخری پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان نے طالبان مخالف قوتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ان رابطوں میں طالبان حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد آئندہ سیاسی انتظام بارے بات کی جا رہی ہے۔ کسی اور علاقائی طاقت نے افغان طالبان کے خلاف ایسی بولڈ پیشرفت نہیں کی۔
افغان طالبان قیادت خود پر پاکستانی پراکسی ہونے کے الزام کو دھونے کے لیے پاکستان مخالف پوزیشن لیتی رہی ہے۔ عوامی جذبات کا اندازہ سوشل میڈیا سے لگایا جاتا رہا۔ پاکستان کے خلاف تناؤ بڑھنے سے افغان طالبان کو اپنے مخالف عوامی حلقوں اور اپوزیشن سے بھی بھرپور سپورٹ ملی جس کا انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ اب بھی پاکستان کے خلاف لڑائی میں سوشل میڈیا پر افغان طالبان کو پہلے سے زیادہ حمایت میسر ہے۔
اس بڑھتی ہوئی سپورٹ کے باوجود وزیر خارجہ امیر خان متقی، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد دونوں بار بار مسائل کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ڈپٹی ترجمان حمد اللہ فطرت کا کہنا ہے کہ ہم روس، یورپی یونین برطانیہ اور چین سے رابطے میں ہیں کہ وہ پاکستان پر پریشر ڈال کر جنگ ختم کرائے۔ بندہ پوچھے اب ترکی، قطر، یو اے ای، سعودی عرب اور امریکا کا نام نہیں لے رہے۔ وہ سن نہیں رہے یا سمجھ گئے ہیں آپ کو۔ دراصل امر اللہ صالح جیسے شدید پاکستان مخالف سوچ رکھنے والے بھی جب یہ کہہ رہے ہوں کہ پاکستان ان 5 نکات کی وجہ سے سیریس دکھائی دیتا ہے تو طالبان کا مذاکرات پر اصرار سمجھ آتا ہے۔
پاکستانی ایئر اسٹرائیکس ایک تسلسل کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ افغان طالبان کی باڈر پوسٹس، ایمونیشن ڈپو اور ملٹری ڈپو ان اسٹرائکس کا مستقل نشانہ ہیں۔ بہت سے اہم طالبان راہنما اپنی رہائش گاہیں تبدیل کر رہے ہیں اور پبلک میں جانے سے گریز کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ صرف ڈپلومیٹک میٹنگ اب بھی ہو رہی ہیں۔ افغان طالبان کو امید تھی کہ جب وہ پاکستان پر جوابی اسٹرائیک کریں گے تو ٹی ٹی پی کی پاکستان کے اندر موجود فائٹ فورس بھی پوری طرح لڑائی میں شامل ہو گی۔ ایسا ہوا تو پاکستانی سیکیورٹی فورسز دو طرفہ حملوں میں سینڈوچ بنیں گی۔ ٹی ٹی پی قیادت نے بظاہر اپنے فائٹر کو حملے شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ عملی طور پر وہ افغان طالبان کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔
پہلے افغان سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف اور طالبان کے حق میں یکطرفہ ٹریفک چل رہی تھی۔ اب مخالف افغان اکاؤنٹ طالبان کا بھی مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ امر اللہ صالح نے ایک ٹویٹ میں پوچھا ہے کہ طالبان نے کیوں پاکستان سے باڈر سے زیادہ فورس پنجشیر میں تعینات کر رکھی ہے۔ طالبان باڈر پر نئی ڈپلائمنٹ کے لیے نان پشتون علاقوں سے تاجک اور ازبک نوجوانوں کو بھرتی کر کے باڈر پر بھیجنے کو سختی کر رہے ہیں۔
خود طالبان قیادت کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ بامیان منتقل ہو سکتی ہے۔ بامیان وسط افغانستان کا ہزارہ شیعہ اکثریتی آباد کا صوبہ ہے۔ طالبان قیادت کی کسی فوری منتقلی کا ابھی کوئی امکان نہیں لگتا۔ بظاہر یہ شورش سے پاک ایک محفوظ خطہ ہے۔ لیکن یہاں کی آبادی میں طالبان کی حمایت صفر ہی ہے۔ پاک افغان باڈر پر تاجک ازبک نوجوانوں کی تعیناتی اور بامیان منتقلی کی سوچ طالبان کے محدود آپشن ظاہر کرتی ہے۔ افغان طالبان پریشر میں آ کر غلطیاں کر رہے ہیں جو ان کی رخصتی کا باعث بن سکتی ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













